تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 862

تذکار مہدی — Page 554

تذکار مهدی 554 روایات سید نامحمود وہ ہندو، سکھ یا عیسائی سے حسن سلوک کا برتاؤ نہیں کرتے۔ہاں یہ اور بات ہے کہ جہاں مسلمانوں کے حقوق کا سوال پیدا ہو گا۔وہاں ہمیں مسلمانوں سے تعلق رکھنا پڑے گا کیونکہ علاوہ سیاسی اتحاد کے مذہبی لحاظ سے بھی ہمارا مسلمانوں سے سب سے بڑھ کر اتحاد ہے اور ہمارا ان سے ایسا ہی تعلق ہے جیسا کہ جسم کے دوٹکڑے اور باوجود اس کے کہ وہ اسلام سے دور ہیں ایسے عقائد اختیار کئے ہوئے ہیں جو اسلام کی جڑوں پر تبر کا حکم رکھتے ہیں۔ہم انہیں نظر انداز نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے اور ہمارے فوائد بہت حد تک یکساں ہیں۔مگر باوجود اس اتحاد کے جو ہمارا مسلمانوں سے ہے ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ہم صلح و آشتی کے لئے پیدا کیئے گئے ہیں اور ہم نے نہ صرف لوگوں سے انصاف کرنا ہے بلکہ ان سے ہمدردی کرنی چاہیئے اور ان کی تکالیف میں غمگساری بھی کرنی ہے۔پس ہمیں ان لوگوں کے اعلیٰ اخلاق کو دیکھ کر کوشش کرنی چاہیئے کہ ان سے زیادہ اعلیٰ نمونہ دکھا ئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی یہی طریق عمل تھا۔ایک دوست نے سنایا کہ ایک دفعہ ہندوؤں میں سے ایک شدید مخالف کی بیوی سخت بیمار ہوگئی، طبیب نے اس کے لئے جو دوائیں تجویز کیں ان میں مشک بھی پڑتا تھا جب کہیں اور سے اسے کستوری نہ ملی تو وہ شرمندہ اور نادم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آیا اور آ کر عرض کیا کہ اگر آپ کے پاس مشک ہو تو عنایت فرمائیں۔غالباً اسے ایک یا دو رتی مشک کی ضرورت تھی مگر اس کا اپنا بیان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مشک کی شیشی بھر کر لے آئے اور فرمایا آپ کی بیوی کو بہت تکلیف ہے، یہ سب لے جائیں تو درحقیقت اخلاق فاضلہ ہی ایک ایسی چیز ہے جو دوسرے کے دل میں محبت پیدا کرتی ہے۔تریاق القلوب کی اشاعت (خطبات محمود جلد 15 صفحہ 124 ) اس میں کوئی شک نہیں کہ تریاق القلوب اکتوبر 1902ء کو شائع ہوئی اور ریویو جون 1902ء کو بلکہ دافع البلاء جس سے ریویو میں مضمون لیا گیا ہے وہ تو اپریل 1902 ء کو شائع ہوئی اور خود میں نے اپنے رسالہ القول الفصل میں تاریخ اشاعت کے لحاظ سے 1902 ء تک ہی تریاق القلوب کی تیاری لکھی ہے لیکن چونکہ اس وقت اس امر کو بالتفصیل لکھنے کی گنجائش نہ تھی اس لئے اس رسالہ میں وہی تاریخ لکھ دی گئی جو تریاق القلوب پر لکھی ہوئی تھی اور اگر میں ایسا نہ کرتا تو خوف تھا کہ بعض لوگ جھٹ مجھ پر جھوٹ کا الزام لگا دیتے لیکن اب میں بتاتا ہوں کہ تریاق القلوب