تذکار مہدی — Page 540
تذکار مهدی ) 540 روایات سید نا محمودی کایی الہامات 18 مارچ 1907 ء کی بات ہے کہ رات کے وقت رویا میں مجھے ایک کاپی الہاموں کی دکھائی گئی اس کی نسبت کسی نے کہا کہ یہ حضرت صاحب کے الہاموں کی کاپی ہے اور اس میں موٹا لکھا ہوا ہے۔عَسَى أَنْ تَكْرَ هُوًا شَيْئاً وَّ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ۔یعنی کچھ بعید نہیں کہ تم ایک بات کو نا پسند کرو لیکن وہ تمہارے لئے خیر کا موجب ہو۔اس کے بعد نظارہ بدل گیا اور دیکھا کہ ایک مسجد ہے اس کے متولی کے برخلاف لوگوں نے ہنگامہ کیا ہے اور میں ہنگامہ کرنے والوں میں سے ایک شخص کے ساتھ باتیں کرتا ہوں۔باتیں کرتے کرتے اس سے بھاگ کر الگ ہو گیا ہوں اور یہ کہا کہ اگر میں تمہارے ساتھ ملوں گا تو مجھ سے شہزادہ خفا ہو جائے گا۔اتنے میں ایک شخص سفید رنگ آیا ہے اور اس نے مجھے کہا کہ مسجد کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کے تین درجے ہیں۔ایک وہ جو صرف نماز پڑھ لیں یہ لوگ بھی اچھے ہیں ، دوسرے وہ جو مسجد کی انجمن میں داخل ہو جائیں، تیسرا متولی اس کے ساتھ ایک اور خواب بھی دیکھی وہ یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔۔8 مارچ کو میں نے یہ رویا دیکھی تھی اور وہ اس طرح کہ جس رات کو میں نے یہ رویا دیکھی اسی صبح کو حضرت والد ماجد کو سنایا آپ سن کر نہایت متفکر ہوئے اور فرمایا کہ مسجد سے مراد تو جماعت ہوتی ہے شاید میری جماعت کے کچھ لوگ میری مخالفت کریں یہ رو یا مجھے لکھوا دے چنانچہ میں لکھوا تا گیا اور آپ اپنی الہاموں کی کاپی میں لکھتے گئے۔پہلے تاریخ لکھی پھر یہ لکھا کہ محمود کی رؤیا پھر تینوں رویا لکھیں ان تینوں رویا کے ارد گرد اس سے پہلے اور پچھلی تاریخوں کے الہام حضرت صاحب کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے موجود ہیں ( کاپی لوگوں کو دکھائی گئی) اور یہ کاپی اب تک میرے پاس موجود ہے اور ہر ایک طالب حق کو دکھائی جاسکتی ہے جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دستخط پہچانتے ہیں وہ گواہی دے سکتے ہیں کہ یہ سب کا پی حضرت صاحب کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے اور کئی سال کے الہام اس میں درج ہیں اور یہ میری رویا بھی آپ ہی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی اس میں موجود ہے۔یہ ایک ایسی شہادت ہے کہ کوئی احمدی اس کا انکار نہیں کر سکتا کیونکہ ایسے کھلے کھلے نشان کا جو شخص انکار کرے گا اسے ہر ایک صداقت کا انکار کرنا پڑے گا۔۔برکات خلافت۔انوار العلوم جلد 2 صفحہ 180 تا 183)