تذکار مہدی — Page 539
تذکار مهدی ) 539 روایات سید نا محمودی لوگوں نے نقل کی نقل تو کی مگر بھونڈی اور فضول نقل کی۔جوان کے لئے بجائے فائدہ مند ہونے اور ذلیل کن ہے کیونکہ انسان معزز کوٹ پتلون و ہیٹ سے نہیں بن جاتا اور نہ ہی یورپ کے لوگ اپنے لباس کی وجہ سے معزز ہیں بلکہ کسی اور وجہ سے ہیں۔ان لوگوں کو اگر اُن کی نقل کرنی تھی تو ان صفات کی کرتے جن سے وہ دنیا میں معزز ہیں۔مثلاً دنیا ہی کو وہ سب کچھ سمجھتے ہیں۔اور اس کے لئے کوئی بڑی سے بڑی قربانی کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔لیکن اگر ان لوگوں کو کسی دور سفر پر جانے کے لئے کہا جائے۔تو اول تو موجودہ زمانہ میں جہاز کے سفر کے خطرے کو رستے میں روک بنائیں گے۔اور اگر جہاز کا سفر نہ ہو تو کسی ایسی جگہ کا سفر ہو جہاں ریل نہ جاتی ہو تو ریل کے نہ ہونے کا عذر کیا جائے گا۔پھر اگر یورپ کے لوگوں کو مذہبی طور پر بھی دیکھا جائے۔تو ان کی قربانیاں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔افریقہ کے وحشیوں نے سینکڑوں مشنری عورتوں کو بھون کر کھا لیا۔مگر ایک کے بعد دوسری فوراً چلی جاتی اور عیسائیت کی اشاعت میں لگ جاتی اور اگر ایک کی ہلاکت کی خبر پہنچتی ہے۔تو کئی درخواستیں آتی ہیں کہ ہم کو وہاں بھیجا جائے۔چین میں اس وقت تک سات ہزار عیسائی مشنری قتل کیا گیا ہے۔لیکن ایک مارا جاتا ہے تو اس کی جگہ دوسرا چلا جاتا ہے۔ان کی نقل کرنے والے محض لباس اور چال میں نقل اتارنے سے چاہتے ہیں کہ ان کی طرح عزت حاصل ہو جائے مگر اس سے یہ ممکن نہیں۔عزت ان کی عمدہ صفات حاصل کرنے سے ہو سکتی ہے۔بنگال اور مدراس کے لوگ تعلیم میں بہت ترقی کر گئے ہیں مگر اپنا لباس وہی رکھتے ہیں۔بنگالی سر ننگے اور دھوتی باندھے ہوئے ہوتے ہیں۔مفتی صاحب جب مدراس گئے تو انہوں نے بتایا کہ چیف کورٹ کے جج بھی ننگے پیر بازاروں میں پھرتے تھے۔اور اس سے ان کی عزت میں کچھ بھی فرق نہیں آتا کیونکہ انہوں نے اہل یورپ کی سیکھنے کی باتیں سیکھی ہیں۔حضرت مسیح موعود کوئی کوٹ پتلون نہیں پہنتے تھے۔مگر خدا نے آپ کو کتنی عزت دی تو معلوم ہوا کہ لباس میں تقلید کرنے سے عزت حاصل نہیں ہوتی۔پھر بعض لوگ بھیڑ کی طرح تقلید کرتے ہیں۔اگر پوچھا جائے کہ یہ کام کیوں کرتے ہو تو کہیں گے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے دیکھا۔اگر کوئی عقل کی بات بتاؤ اور کہو کہ ایسا کرو تو کہیں گے ہم نہیں مان سکتے کیونکہ یہ ہمارے باپ دادا کے طریقہ کے خلاف ہے۔یہ نہیں دیکھیں گے کہ کون سی بات مفید اور عقل کے مطابق ہے۔( افضل 5 نومبر 1918ء جلد 6 نمبر 34 صفحہ 8-7)