تذکار مہدی — Page 486
تذکار مهدی ) 486 روایات سید نا محمودی زائد ہے۔آپ کا یہ فرمانا بالکل خدائی تصرف کے ماتحت تھا ورنہ آپ تو انگریزی جانتے ہی نہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے ہی آپ کے منہ سے ایسا فقرہ کہلوا دیا جس سے عربی کا اختصار انگریزی کے مقابلہ میں واضح ہو گیا۔حالانکہ شاذ کے طور پر کوئی ایسا فقرہ بھی ہو سکتا ہے جس کا انگریزی ترجمہ عربی سے مختصر ہو مگر آپ کے منہ سے اسی فقرہ کا نکلنا تصرف الہی کے ماتحت تھا۔پھر یہ بھی تصرف ہی کے ماتحت تھا کہ ایسا فقرہ آپ کے منہ سے نکلا کہ جس کا آدھا حصہ ہی عربی میں انگریزی کے پورے فقرے کے معنی دیتا ہے۔تو عربی زبان میں کئی خصوصیات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی نثر ترتیل کے ساتھ پڑھی جاسکتی ہے اور زبانوں میں یہ بات نہیں۔ان کو اگر اس رنگ میں پڑھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ منہ چڑایا جا رہا ہے۔ایمان تو بُڑھیا کا سا ہونا چاہئے (خطبات محمود جلد 21 صفحہ 39) یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک عورتوں میں بیداری نہ پیدا ہو اس وقت تک مردوں کے لئے ترقی کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔عورتوں کا ایمان بہت مستقل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے عورت کو اتنا فکر نہیں دیا جتنے جذبات دیئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایمان تو بڑھیا کا سا ہونا چاہئے۔سارا دن دلائل دیتے رہو سب کچھ سن سنا کر کہہ دے گی وہی بات ٹھیک ہے جو میں مانتی ہوں۔مؤمن کو بڑھیا کی طرح تو نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی بات تسلیم ہی نہ کرے لیکن اس کا ایمان ایسا ہونا چاہئے کہ کوئی چیز اسے ہلا نہ سکے۔غرض عورتوں کا ایمان قابل تعریف ہوتا ہے ان میں جہالت بھی زیادہ ہوتی ہے مگر ایمان میں بھی بہت پختہ ہوتی ہیں میں نے کئی بار سنایا ہے میراثی قوم کی ایک عورت تھی جو گانے بجانے کا کام کرتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں وہ یہاں اپنے لڑکے کو لائی جو عیسائی ہو گیا تھا اور گفتگو میں مولویوں کے منہ بند کر دیتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے نصیحت کی مگر وہ بھی کچھ ایسا پکا تھا کہ ایک دن موقع پا کر باوجود یکہ مسلول تھا رات کو بھاگ گیا جب اس کی ماں کو پتہ لگا تو اس کے پیچھے گئی اور بٹالہ سے پکڑ کر پھر لے آئی۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رو رو کر کہتی کہ ایک بارا سے کلمہ پڑھا دیں پھر خواہ مر ہی جائے۔آخر خدا تعالیٰ نے اس کی زاری کو قبول کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اس کا لڑکا مسلمان ہو گیا پھر مر گیا تو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کا طبقہ یونہی نہیں