تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 862

تذکار مہدی — Page 475

تذکار مهدی ) 475 روایات سید نا محمودی ب<mark>جائے</mark> اگر انگریزی کی یہ عبارت ہم ترتیل کے ساتھ پڑھیں I will go there تو وہ اس قدر مضحکہ خیز ہو <mark>جائے</mark> گی کہ ہر سننے والا ہنس پڑے گا مگر عربی کے الفاظ ایسے ہیں کہ ان کا اُتار چڑھاؤ بالکل نظم کا سا ہوتا ہے۔اس کی حرکات اپنے اندر خصوصیات رکھتی ہیں اور جب تک ان کی اتباع نہ کریں یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا منہ چڑا رہے ہیں۔اکسنٹ (ACCENT) پر جتنا زور عربی نے دیا ہے اور کسی زبان نے نہیں دیا۔ہر لفظ کی اس کے اتار چڑھاؤ سے اچھی یا بری شکل بن جاتی ہے اور ان کی کمی بیشی سے معنی بھی بدل جاتے ہیں۔مثلال کے معنی ضرور کے ہیں۔لیکن اگر ذرا سا لمبا کر دیں اور لا کہیں تو اس کے معنی نہیں ہوں گے۔تو حرکت کے ذرا چھ<mark>وٹ</mark>ا بڑا کر دینے سے معنی بالکل بدل جاتے ہیں۔قرآن کریم میں يَتَّقُونَ اور يَتَّقُون کے الفاظ آتے ہیں۔اور يَتَّقُونَ کے معنی ہیں وہ ڈرتے ہیں اور يَتَّقُون کے معنی ہو جائیں گے وہ مجھ سے ڈرتے ہیں۔تو زبر اور زیر کے فرق سے معنوں میں بہت سا فرق پڑ <mark>جائے</mark> گا۔خدا تعالیٰ کی برکات کا نزول خطبات محمود جلد 21 صفحہ 39-38 ) | دنیا کو جو چیز نظر آتی ہے وہ تمہارے اعمال ہیں۔اگر تم میں دیانت نہیں پائی جاتی ، کسی کی چیز کو واپس دینے میں تم بہانے بناتے ہو، کسی کو سودا دینے لگتے ہو تو کم تول کر دیتے ہو۔تو تمہیں ہر شخص دیکھتا ہے اور تمہارے م<mark>تعلق</mark> فیصلہ کرتا ہے کہ تمہارے اندرونے کی کیا حالت ہے۔دنیا کے لیے تم کس حد تک مفید ہو یا مضر ہو۔آخر دو ہی صورتیں ہیں۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ سارا جھگڑا پیٹ کا ہے۔اگر ر<mark>وٹ</mark>ی مل <mark>جائے</mark> تو سب کچھ ہے۔مثلاً کمیونسٹ ہیں انہوں نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ ہماری اصل غرض پیٹ کا بھرنا ہے۔ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ خدا ہے ، نبی ہے یا کوئی کتاب ہے۔ان کے نزد یک عقا ئد ، خوبصورت نظریات کے سوا اور کچھ نہیں۔ان کے نزدیک یہ سب فضول باتیں ہیں۔وہ محنت کر کے دو پیسے کما لیتے ہیں اور پیٹ بھر لیتے ہیں۔یہی ان کی سب سے بڑی غرض ہے۔دوسرے لوگ جو مذہب کو حقیقت دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ ہے تو ہمیں <mark>اُس</mark> نے کیا دیا ہے۔بے شک ہمیں خدا تعالیٰ کی ہستی کی ضرورت ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ