تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 862

تذکار مہدی — Page 476

تذکار مهدی ) 476 روایات سید نا محمودی موجود ہے تو اس نے ہمیں کیا فائدہ پہنچایا ہے۔ہم نے دوسروں سے لڑائیاں کیں، چند عقائد بنالئے اور دوسروں سے جھگڑے مول لئے لیکن اس کا فائدہ کچھ بھی نہ ہوا۔وہی دھوکا بازی، لڑائیاں ، بغض، کینے ، مار دھاڑ، فریب اور فساد دُنیا میں موجود ہیں۔پھر ہمیں خدا تعالیٰ کا کیا فائدہ۔اگر خدا ہوتا تو ہماری ان باتوں کا کوئی نتیجہ نکلتا۔ٹھنڈے پانی کے قطرے سے جسم ٹھٹھر جاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ پر ایمان لانے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔اگر کسی کو کھوٹا پیسہ بھی مل جائے تو وہ اُس سے بھی ایک چھٹانک چنے خرید لیتا ہے لیکن خدا پر ایمان لانے سے اتنا فائدہ بھی لوگوں کو حاصل نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک شخص تھا۔اُس کے دماغ میں کوئی نقص پیدا ہوگیا تھا۔انسان جس قوم سے تعلق رکھتا ہو اگر وہ پاگل ہو جائے تو وہ اُسی قوم کی باتوں کی سی باتیں سوچتا ہے۔مثلاً جس قوم میں الہام پر زور ہو اُس کا فرد پاگل ہونے پر الہامی باتیں ہی سوچتا ہے۔احمد یہ جماعت میں میں نے دیکھا ہے کہ جس کسی کا دماغ خراب ہو جاتا ہے وہ نبی اور ولی بن جاتا ہے۔ہمارے مدرسہ میں حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے زمانہ میں ایک چپڑاسی تھا جس کا نام محمد بخش تھا۔اس کے دماغ میں نقص پیدا ہوا تو اس نے کہنا شروع کر دیا کہ مجھے الہام ہوتا ہے۔اس نے سکول کے لڑکوں سے کہا کہ مجھے مان لو۔لڑکوں نے جواب دیا کہ ہم تمہیں کیوں مان لیں؟ وہ کہنے لگا تم نے مرزا صاحب کو بھی مانا ہے مجھے بھی مان لو۔بعض لڑکوں نے کہا ہم نے مرزا صاحب کو اس لیے مانا ہے کہ آپ کے بعض نشانات دیکھے ہیں۔اُس نے کہا میرے پاس بھی نشانات ہیں لڑکے باریکیاں نہیں سمجھتے۔ایک لڑکے نے کہا مرزا صاحب انگریزی نہیں جانتے لیکن آپ کو انگریزی میں الہامات ہوتے ہیں۔اس نے کہا مجھے بھی انگریزی میں الہام ہوتے ہیں۔حالانکہ میں انگریزی نہیں جانتا۔لڑکوں نے کہا اچھا کوئی الہام سناؤ۔اس پر اُس نے کہا مجھے الہام ہوا ہے " آئی وٹ وٹ" I what what) اُس نے " آئی" D) اور وٹ (What) کے الفاظ سنے تھے۔لیکن اُسے یہ پتا نہیں تھا کہ ان الفاظ کے معنے کیا ہیں۔لڑکوں نے اُس کا نام ہی آئی وٹ وٹ رکھ دیا۔پس قدرتی طور پر ہر ایک شخص یہ سوچتا ہے کہ اگر ہمیں خدا ملا ہے تو ہمیں کیا فائدہ پہنچا ہے۔وہ شخص پاگل تھا اُس نے کہا مجھے خدا مل گیا ہے۔لیکن ایک بچے کو بھی اتنی عقل ہوتی ہے کہ اگر خدا ملے تو اُس سے کچھ فائدہ ہونا چاہیے۔