تذکار مہدی — Page 474
تذکار مهدی ) 474 روایات سید نا محمودی تم محمد ہو۔آپ نے فرمایا مجھے تو خدا تعالیٰ ہر وقت یہ نہیں کہتا۔میں ابراہیم ہوں۔موسیٰ ہوں۔عیسی ہوں۔لیکن جب وہ کہتا ہے کہ تم عیسی ہو تو وہ عیسی والی صفات بھی مجھے دیتا ہے۔جب وہ کہتا ہے کہ تم موسیٰ ہو تو موسیٰ والے نشانات بھی مجھے دیتا ہے۔اگر وہ آپ کو ہر وقت محمد کہتا ہے تو کیا وہ آپ کو قرآن کریم کے معارف لطائف اور حقائق بھی دیتا ہے یا نہیں۔اس نے کہا دیتا تو کچھ نہیں۔آپ نے فرمایا دیکھو کچے اور جھوٹے میں یہی فرق ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص بچے طور پر کسی کومہمان بناتا ہے تو وہ اسے کھانے کو دیتا ہے۔لیکن اگر کوئی کسی سے مذاق کرتا ہے تو وہ یونہی کسی کو بلا کر اس کے سامنے خالی برتن رکھ دیتا ہے اور کہتا ہے یہ پلاؤ ہے یہ زردہ ہے۔خدا تعالیٰ مذاق نہیں کرتا۔شیطان مذاق کرتا ہے۔اگر آپ کو محمد کہا جاتا ہے اور پھر قرآن کریم کے معارف لطائف اور حقائق نہیں دیئے جاتے۔تو ایسا کہنے والا شیطان ہے۔خدا نہیں۔خدا تعالیٰ اگر کچھ کہتا ہے تو وہ اس کے مطابق چیز بھی انسان کے آگے رکھ دیتا ہے۔اگر آپ کے سامنے کوئی چیز نہیں رکھی جاتی تو آپ یقین کر لیں کہ آپ کو محمد کہنے والا خدا نہیں شیطان ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تغیر خدا تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا تو لوگوں کی توجہ آپ ہی آپ، آپ کی طرف ہو گئی۔یہ نہیں ہوا کہ کسی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوی سنا ہو اور اس نے آپ کو کوئی اہمیت نہ دی ہو۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت بھی بتارہی ہے کہ لوگ آپ کو اہمیت دیتے ہیں۔پس ہماری جماعت کو اپنے اندر استقلال پیدا کرنا چاہیے۔خدا تعالیٰ نے انہیں ایک عظیم الشان روحانی تغییر کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور عظیم الشان تغیر دلوں کی اصلاح سے ہی ہوسکتا ہے بیرونی اصلاح سے نہیں۔الفضل 2 فروری 1961 ء جلد 50/15 نمبر 27 صفحہ 4-3 ) عربی زبان میں موسیقی پائی جاتی ہے یہ عربی زبان کی ایک خوبی ہے کہ اس میں ایک موسیقی پائی جاتی ہے اور کسی زبان میں یہ بات نہیں اور عربی کی اس خوبی کا بہترین نمونہ قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔دنیا کی کوئی اور ایسی کتاب نہیں جس کی نثر ترتیل کے ساتھ پڑھی جا سکے جس طرح کہ قرآن کریم پڑھا جا سکتا ہے۔اردو ، انگریزی یا کسی اور زبان کی کوئی اور ایسی کتاب نہیں جس کی عبارت اس طرح پڑھی جا سکے جس طرح ہم ترتیل کے ساتھ اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ پڑھتے ہیں۔اس کی