تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 862

تذکار مہدی — Page 452

تذکار مهدی ) 452 روایات سید نا محمودی ہی کھٹکا ہو جائے تو سب اُس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں تا کہ چوہے کے ہلنے سے جو کھٹکا ہوا ہے اُس کی برکت سے وہ محروم نہ رہیں۔گویا جمعہ کی جو غرض ہے کہ خطیب کی بات کو توجہ سے سنا جائے اور اُس سے فائدہ اُٹھایا جائے اُس سے بہت کم لوگ حصہ لیتے ہیں۔یہاں تک کہ ہماری جماعت میں بھی یہ کمزوری پائی جاتی ہے اور کئی دفعہ انہیں ٹوکنا پڑتا ہے۔باقی رہی وہ روایت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کی جاتی ہے۔اگر وہ درست ہے تو اس نخوست سے مراد صرف نحوست تھی کہ آپ کی وفات منگل کے دن ہونے والی تھی۔ورنہ جب خدا تعالیٰ نے خود تمام دنوں کو با برکت کیا ہے اور تمام دنوں میں اپنی صفات کا اظہار کیا ہے۔تو اس کی موجودگی میں اگر کوئی روایت اس کے خلاف ہمارے سامنے آئے گی تو ہم کہیں گے کہ یہ روایت بیان کرنے والے کو غلطی لگی ہے۔ہم ایسی روایت کو تسلیم نہیں کر سکتے اور یا پھر ہم یہ کہیں گے کہ ہر انسان کو بشریت کی وجہ سے بعض دفعہ کسی بات میں وہم ہو جاتا ہے۔ممکن ہے کہ ایسا ہی کوئی وہم منگل کی کسی دہشت کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی ہو گیا ہو۔مگر ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ دن منحوس ہے۔ہم اس روایت میں یا تو راوی کو جھوٹا کہیں گے اور یا پھر یہ کہیں گے کہ شائد بشریت کے تقاضا کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس بارہ میں کوئی وہم ہو گیا ہو۔ورنہ مسئلہ کے طور پر یہی حقیقت ہے اور یہی بات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے کہ سارے کے سارے دن بابرکت ہوتے ہیں۔مگر مسلمانوں نے اپنی بدقسمتی سے ایک ایک کر کے دنوں کو منحوس کہنا شروع کر دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کامل طور پر نحوست اور ادبار کے نیچے آ گئے۔( الفضل 21 ستمبر 1960 ء جلد 49/19 نمبر 217 صفحہ 3-2 ) | چوری کی شکایت پر نصائح مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک دفعہ کسی شخص نے شکایت کی کہ باورچی چوری کرتا ہے۔وہ آپ کھانا کھا لیتا ہے تو اس کے بعد آٹھ دس روٹیاں گھر لے جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس شکایت کرنے والے دوست سے کہا کہ آپ کی شکایت تو میں نے سن لی ہے۔لیکن آپ نے یہ بھی سوچا ہے کہ ایک روٹی کے لئے وہ دو دفعہ تنور میں جھکتا ہے۔سخت گرمی میں ہم نے اپنے دروازے بند کیے ہوتے ہیں۔پردے