تذکار مہدی — Page 451
تذکار مهدی ) 451 روایات سید نا محمودی نحوست پیچھا نہیں چھوڑتی اور دوسری قومیں ترقی کر جائیں گی۔اگر کوئی کہے کہ دنوں میں اگر کوئی خاص برکت نہیں ہوتی تو رسول کریم ﷺ نے یہ کیوں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری قوم کے لیے جمعرات کے سفر میں برکت رکھی ہے۔تو اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ وہاں ایک وجہ موجود ہے اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا یہ تھا کہ جمعہ کے دن تمام لوگ شہر میں رہیں اور ا کٹھے ہو کر نماز ادا کریں تا کہ جب لوگ اکٹھے ہوں تو وہ ایک دوسرے کی مشکلات کا علم حاصل کریں، اہم امور میں ایک دوسرے سے مشورہ لیں، اپنی ترقی کی تدابیر سوچیں اور یہ چیز میں اتنی اہم ہیں کہ ان کو ترک کر کے کسی کا سفر پر چلے جانا کسی صورت میں بھی درست نہیں ہو سکتا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم کہیں سفر پر جانا چاہو تو جمعرات کو جاؤ تا کہ جمعہ کسی شہر میں ادا کر سکو اور یہ چیز ایسی ہے جس سے کوئی وہم پیدا نہیں ہوتا۔محض جمعہ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت دی ہے کہ اگر چھوٹا سفر ہے تو جمعرات کو کر لیا کرو اور اگر لمبا سفر ہے تو جمعہ کی نماز پڑھ کر کسی اور دن چلے جاؤ۔پس اس حدیث میں کسی دن کی برکت پر زور نہیں دیا گیا بلکہ جمعہ کی نماز پر زور دیا گیا ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ جمعہ کی نماز میں سارے شہر کا اکٹھا ہونا ضروری ہوتا ہے چاہے وہ دس لاکھ کا شہر ہو یا بیس لاکھ کا شہر ہو یا تمیں لاکھ کا شہر ہو۔اگر کوئی ایسا شہر ہے جس کے افراد ایک مقام پر اکٹھے نہیں ہو سکتے تو اسے مختلف حصوں میں بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے لیکن مسئلہ یہی ہوگا کہ ہر حلقہ کے تمام لوگ اپنے اپنے حلقہ میں نماز جمعہ کے لیے اکٹھے ہوں اور اس میں بہت سے دینی اور دنیوی فوائد ہیں۔جب لوگ اکٹھے ہوں گے تو لازماً وہ ایک دوسرے کی مشکلات کا علم حاصل کریں گے، ایک دوسرے سے مشورے کریں گے، ایک دوسرے کی ترقی کی تدابیر کریں گے، اپنی تنظیم کو زیادہ مؤثر بنائیں گے، اپنی اخلاقی اصلاح کے لیے سکیمیں سوچیں گے، غرباء کی ترقی کے پروگرام تجویز کریں گے۔غرض وہ قومی ترقی کے لیے اس اجتماع سے بہت کچھ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔گو افسوس ہے کہ آجکل مسلمانوں میں جمعہ کے اجتماع سے اس رنگ میں فائدہ نہیں اُٹھایا جاتا۔اپنے اندر ہی دیکھ لورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب خطبہ ہو رہا ہو تو امام کی طرف منہ کر کے بیٹھو اور اُس کی باتوں کو توجہ سے سنو۔مگر بعض لوگ اس وقت امام کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھے ہیں اور پھر ذرا کوئی آہٹ آ جائے یا چوہے کے ملنے سے