تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 862

تذکار مہدی — Page 453

تذکار مهدی ) 453 روایات سید نا محمودی رہے ہوتے ہیں دستی پنکھے ہمارے ہاتھوں میں ہوتے ہیں اور یہ تنور میں جھکا جا رہا ہوتا ہے۔آخر یہ بھی ہماری طرح ہی اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ ہے۔ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ سلوک کیوں نہ کیا؟ آخر اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک رنگ میں سزا تو مل رہی ہے۔اسے اور کیا سزا دلانا چاہتے ہیں۔تو اچھا آدمی ہمیشہ اچھے پہلو کو دیکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شکایت کرنے والے کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ سزا تو اسے روٹیاں چرانے سے بھی پہلے مل جاتی ہے کیونکہ ایک ایک روٹی کے لئے یہ دو دفعہ تنور میں اپنا سر جھکاتا ہے۔پھر اس کی تعلیم اعلیٰ نہیں اگر تعلیم اچھی ہوتی تو لازماً اس کے اخلاق بھی اچھے ہوتے اور اچھا کاروبار اختیار کر تا جب ان میں سے کوئی بات بھی اسے حاصل نہیں تو اس پر اور کیا ناراض ہوتے ہو۔ایسے شخص کو مارنا یا سزا دینا تو ایسا ہی ہے جیسے کہتے ہیں ”مرے کو مارے شاہ مدار“ غرض اس واقعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر اسی طرف گئی کہ ہماری موجودہ حالت خدا تعالیٰ کے انعاموں میں سے ایک بہت بڑا انعام ہے اور اس کے لئے وہی سزا کافی ہے جو اسے مل رہی ہے۔کسی اور سزا کی اس کے لئے کیا ضرورت ہے۔تو مومن کو ہمیشہ ہر چیز کا اچھا پہلو دیکھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور تو ہمات میں مبتلا ہو کر اپنی طاقتوں کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔( خطبات محمود جلد 35 صفحہ 164-163) حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عشق گومثال تو ایک پاگل کی ہے پھر ایسے پاگل کی جواب فوت ہو چکا اور گو وہ ایک ایسے پاگل کی مثال ہے جو میرا استاد بھی تھا مگر بہر حال اس سے عشق کی حالت نہایت واضح ہو جاتی ہے۔ایک میرے استاد تھے جو سکول میں پڑھایا کرتے تھے بعد میں وہ نبوت کے مدعی بن گئے ان کا نام مولوی یار محمد صاحب تھا۔انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایسی محبت تھی کہ اس کے نتیجہ میں ہی ان پر جنون کا رنگ غالب آ گیا۔ممکن ہے پہلے بھی ان کے دماغ میں کوئی نقص ہو مگر ہم نے تو یہی دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی محبت بڑھتے بڑھتے انہیں جنون ہو گیا اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہر پیشگوئی کو اپنی طرف منسوب کرنے لگے۔پھر ان کا یہ جنون یہاں تک بڑھ گیا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے قریب ہونے کی خواہش میں بعض دفعہ ایسی حرکات بھی کر بیٹھتے جو ناجائز اور نادرست