تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 862

تذکار مہدی — Page 429

تذکار مهدی ) 429 روایات سید نا محمود گودنے والے نے پوچھا تم کیا گدوانا چاہتے ہو۔اس نے کہا میں شیر گدوانا چاہتا ہوں جب وہ شیر گودنے لگا تو اس نے سوئی چھوٹی۔سوئی چھونے سے درد تو ہونا ہی تھا۔وہ دلیر تو تھا نہیں اس نے کہا یہ کیا کرنے لگے ہو۔گودنے والے نے کہا شیر گودنے لگا ہوں۔اس نے پوچھا شیر کا کون سا حصہ گودنے لگے ہو اس نے کہا دم گود نے لگا ہوں۔اس آدمی نے کہا شیر کی دم اگر کٹ جائے تو کیا وہ شیر نہیں رہتا۔گودنے والے نے کہا شیر تو رہتا ہے۔کہنے لگا اچھا دم چھوڑ دو اور دوسرا کام کرو۔اس نے پھر سوئی ماری تو وہ بول اٹھا اب کیا کرنے لگے ہو۔اس نے کہا اب دایاں بازو گود نے لگا ہوں۔اس آدمی نے کہا اگر شیر کا لڑائی یا مقابلہ کرتے وقت دایاں ہاتھ کٹ جائے تو کیا وہ شیر نہیں رہتا۔اس نے کہا شیر تو رہتا ہے کہنے لگا۔پھر اس کو چھوڑو اور آگے چلو۔اسی طرح وہ بایاں بازو گود نے لگا تو کہا اسے بھی رہنے دو۔کیا اس کے بغیر شیر نہیں رہتا۔پھر ٹانگ گودنی چاہی تب بھی اس نے یہی کہا۔آخر وہ بیٹھ گیا اس آدمی نے پوچھا کام کیوں نہیں کرتے گود نے والے نے کہا اب کچھ نہیں رہ گیا۔یہی آج کل اسلام کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے لوگ اپنی مطلب کی چیزیں الگ کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ باقی جو کچھ ہے وہ اسلام ہے ہمارے نانا جان فرمایا کرتے تھے کہ چھوٹی عمر میں میری طبیعت بہت چلبلی تھی۔آپ میر درد کے نواسے تھے اور دہلی کے رہنے والے تھے۔وہاں آم بھی ہوتے ہیں۔آپ فرمایا کرتے تھے جب والدہ، والد صاحب اور بہن بھائی صبح کے وقت آم چوسنے لگتے تو میں جو آم میٹھا ہوتا اس کو کھٹا کھٹا کہہ کر الگ رکھ لیتا اور باقی آم ان کے ساتھ مل کر کھا لیتا۔جب آم ختم ہو جاتے تو میں کہتا میرا تو پیٹ نہیں بھرا۔اچھا میں یہ کھٹے آم ہی کھا لیتا ہوں اور سارے آم کھا جاتا۔ایک دن میرے بڑے بھائی جو بعد میں میر درد کے گدی نشین ہوئے۔انہوں نے کہا میرا بھی پیٹ نہیں بھرا۔میں بھی آج کھٹے آم چوس لیتا ہوں۔فرماتے تھے میں نے بہتیر از ور لگایا۔مگر وہ باز نہ آئے۔آخر انہوں نے آم چو سے اور کہا یہ آم تو بڑے میٹھے ہیں۔تم یونہی کہتے تھے کہ کھٹے ہیں۔جس طرح وہ آم چوستے وقت میٹھے آم الگ کر لیتے تھے اور باقی دوسروں کے ساتھ مل کر چوس لیتے تھے اور بعد میں کھٹے کھٹے کہہ کر وہ بھی چوس لیتے تھے۔یہی حال آج کل کے مسلمانوں کا ہے۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ شریعت اسلامیہ کو نافذ کیا جائے۔ان کا اگر یہ حال ہو تو ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو