تذکار مہدی — Page 428
تذکار مهدی ) 428 روایات سید نا محمود اے میرے رب ! میری قوم پر رحم کر کیونکہ وہ جہالت سے ایسا کر رہی ہے۔یہ وہ شاندار چیزیں ہیں جو قوموں کو زندہ کیا کرتی ہیں۔بے شک صاحبزادہ صاحب مر گئے مگر کیا انہوں نے مرنا نہیں تھا۔اگر وہ عام لوگوں کی طرح بستر پر مر جاتے تو کیا ہم ان کا ذکر کر کے جماعت میں جوش پیدا کر سکتے تھے؟ کیا ہم یہ کہتے کہ دیکھو فلاں مولوی نے بستر پر جان دی؟ اگر ہم ایسا کہتے تو کیا لوگوں پر اس کا کوئی بھی اثر ہوتا۔وہ کہتے ایک مولوی تھا جو مر گیا۔دنیا میں بہتیرے مولوی مرتے رہتے ہیں اگر وہ بھی مر گیا تو کیا ہوا۔در حقیقت اس قسم کی قربانی ہی ہوتی ہے جو قوم کے نوجوانوں کو زندہ کیا کرتی ہے۔بے شک ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں مگر نو جوان جب اس قسم کے نمونہ کو دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں میں جوش پیدا ہوتا ہے اور وہ کہتے ہیں کیسا اچھا انجام تھا آؤ ہم بھی ایسی ہی قربانی کریں۔آج کل اسلام کے ساتھ سلوک خطبات محمود جلد 28 صفحہ 318 تا 319) ہر آدمی ایسی چیزوں اور عقائد کو جو رسم و رواج میں داخل ہیں الگ کر لیتا ہے اور کہتا ہے ان کو الگ کر لو باقی جو کچھ ہے وہ اسلام ہے کچھ عورتیں پردہ کی قائل نہیں ہیں وہ اس کو الگ کر لیتی اور کہتی ہیں اللہ کو چھوٹے چھوٹے امور میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے پردہ کو الگ کر دو باقی جو کچھ ہے وہ اسلام ہے ہمارے نوجوان جن کے لئے ڈاڑھی رکھنا مشکل ہے وہ کہہ دیتے ہیں یہ تو کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی باقی جو کچھ ہے وہ اسلام ہے۔سود لینے والا کہہ دیتا ہے کہ بنگنگ تو نہایت ضروری چیز ہے اس لئے سود کو چھوڑ و باقی جو کچھ ہے اسلام ہے۔غرض جس حکم کو وہ نہیں مانتا اس کے نزدیک وہ اسلام نہیں باقی امور اسلام میں داخل ہیں تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے۔سود بھی اسلام میں داخل نہیں ، نمازیں بھی اسلام میں داخل نہیں۔ڈاڑھیاں رکھنا بھی اسلام میں داخل نہیں تو پھر کچھ بھی اسلام میں داخل نہیں۔مثل مشہور ہے کہ کوئی بزدل آدمی تھا۔اسے وہم ہو گیا تھا کہ وہ بہت بہادر ہے۔وہ گودنے والے کے پاس گیا۔پرانے زمانہ میں یہ رواج تھا کہ پہلوان اور بہادر لوگ اپنے بازو پر اپنے کریکٹر اور اخلاق کے مطابق نشان کھدوا لیتے تھے۔یہ بھی گودنے والے کے پاس گیا