تذکار مہدی — Page 430
تذکار مهدی ) 430 روایات سید نا محمودی اسلام کو جانتے ہی نہیں۔وہ تو پھر ہڈیاں اور بوٹی کچھ بھی نہیں چھوڑیں گے۔یہی وجہ ہے کہ عیسائیوں نے یہ لکھ لکھ کر کتا بیں سیاہ کر ڈالی ہیں کہ اسلام کی تعلیم پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔وہ کہتے ہیں کہ یہ کیا مصیبت ہے انسان پورا ایک مہینہ روزے رکھتا جائے اگر معدہ خراب ہو جائے تب تو ہو کہ ایک آدھ دن کا روزہ رکھ لیا۔مگر متواتر ایک مہینہ روزہ رکھتے جانا کونسی عقل کی بات ہے۔(الفضل 11 اکتوبر 1961ء جلد 50/15 نمبر 235 صفحہ 4-3) سید عبداللطیف صاحب شہید کا ایک واقعہ یہ ایک عام قانون ہے جس میں کافر و مومن کی بھی کوئی تمیز نہیں کہ کسی انسان کا ہاتھ کھانے سے نہیں روکا جاتا مگر جب خدا تعالیٰ کی تقدیر چلتی ہے تو ہاتھ رک بھی جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دفعہ کھانا لایا گیا آپ نے اس میں ہاتھ ڈالا ، لقمہ بنایا، اسے منہ کے پاس لے گئے مگر پھر اسے پھینک دیا اور فرمایا کہ یہ کھانا خدا تعالیٰ کے حکم سے بولا ہے اور اس نے کہا ہے کہ مجھ میں زہر ہے اور آخر میزبان نے مان لیا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہلاک کرنے کی غرض سے اس میں زہر ڈالا تھا۔تو دیکھو جب خدا تعالیٰ کی مشیت ہوئی وہی سامان جو روزانہ چلتے تھے یکدم بدل گئے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے خاص تقدیر جاری کر دی اور آپ کو اطلاع دے دی کہ اس کھانے میں زہر ہے اسے نہ کھایا جائے۔اسی طرح سید عبداللطیف صاحب شہید کا ایک واقعہ ہے۔جب آپ افغانستان کو واپس جا رہے تھے۔تو لاہور میں کچھ تحائف وغیرہ خریدنے کے لئے ٹھہرے۔انہی دنوں وہاں کسی احمدی کے لڑکا کے ولیمہ کی دعوت تھی۔جس میں اس نے آپ کو بھی مدعو کیا۔آپ تشریف لے گئے بہت سے اور دوست بھی موجود تھے۔آپ کو احترام کے ساتھ بٹھایا گیا۔جب کھانا شروع ہوا تو آپ نے بھی لقمہ اٹھایا۔مگر پھر اسے پھینک دیا اور استغفار کرتے ہوئے وہاں سے چل دیئے۔بعض دوست آپ کے پیچھے گئے اور کہا کہ میزبان کی بہت دل شکنی ہو گی آپ اٹھ کر نہ جائیں اور کھانے میں شریک ہوں۔مگر آپ نے کہا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ یہ کھانا سور ہے“۔انہوں نے عرض کیا صاحب خانہ مسلمان اور احمدی ہے حلال کھانا پکایا گیا ہے۔سؤر کا کیا مطلب۔مگر آپ نے کہا کہ مجھے یہی الہام ہوا ہے اور میں یہ کھانا نہیں کھا سکتا۔آخر جب تحقیقات کی گئی تو معلوم ہوا کہ در حقیقت ولیمہ کا سوال ہی پیدا نہ ہوا تھا۔ہماری شریعت کا حکم یہ