تذکار مہدی — Page 317
تذکار مهدی ) 317 روایات سید نا محمودی عرصہ گزرنے کے بعد اُسی جگہ تیسرا شخص دفن کر دیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ ایک ایک قبر میں بعض دفعہ یکے بعد دیگرے سو سو آدمی دفن ہو جاتے ہیں۔( مزار حضرت مسیح موعود پر دعا اور اس کی حکمت، انوار العلوم جلد 17 صفحہ 188،189 ) قادیان کی ترقی عظیم الشان نشان ایسے نشان ہزاروں ہیں اور ایسی شہادتیں بے اندازہ کہ جن سے یہ قسم ایمان کی پیدا ہوتی ہے۔ان میں سے اس وقت میں ایک کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور وہ يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ اور يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ یعنی دور دور سے لوگ تیرے پاس آئیں گے اور دور دور سے تیرے پاس تحائف لائے جائیں گے اور ایسے ایسے سامان کئے جائیں گے جن سے مہمان نوازی کی جائے اور اس کثرت سے لوگ آئیں گے کہ وہ راستے گھس جائیں گے جن راستوں سے وہ آئیں گے۔یہ نشان ایک عظیم الشان نشان ہے اس عظیم الشان نشان کی کس وقت خدا تعالیٰ نے خبر دی اس حالت کے دیکھنے والے اب بھی زندہ موجود ہیں۔میری عمر تو چھوٹی تھی لیکن وہ نظارہ اب بھی یاد ہے جہاں اب مدرسہ ہے وہاں ڈھاب ہوتی تھی اور میلے کے ڈھیر لگے ہوتے تھے اور مدرسہ کی جگہ لوگ دن کو نہیں جایا کرتے تھے کہ یہ آسیب زدہ جگہ ہے۔اول تو کوئی وہاں جاتا نہیں تھا اور جو جاتا بھی تو اکیلا کوئی نہ جاتا بلکہ دو تین مل کر جاتے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ یہاں جانے سے جن چڑھ جاتا ہے۔جن چڑھتا تھایا نہیں۔بہر حال یہ ویران جگہ تھی اور یہ ظاہر ہے کہ ویران جگہوں کے متعلق ہی لوگوں کا خیال ایسا ہوتا ہے کہ وہاں جانے سے جن چڑھ جاتا ہے۔پھر یہ میرے تجربے سے تو باہر تھا لیکن بہت سے آدمی بیان کرتے ہیں کہ قادیان کی یہ حالت تھی کہ دو تین روپے کا آٹا بھی یہاں سے نہیں ملتا تھا۔آخر یہ گاؤں تھا زمیندارہ طرز کی یہاں رہائش تھی اپنی اپنی ضرورت کے لئے لوگ خود ہی پیس لیا کرتے تھے۔یہ تو ہمیں بھی یاد ہے کہ ہمیں جب کبھی کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کسی آدمی کو لاہور یا امرتسر بھیجا کرتے تھے۔پھر آدمیوں کا یہ حال تھا کہ کوئی ادھر آتا نہ تھا۔برات وغیرہ پر کوئی مہمان اس گاؤں میں آ جائے تو آ جائے لیکن عام طور پر کوئی آتا جاتا نہ تھا۔مجھے وہ دن بھی یاد ہیں کہ میں چھوٹا تھا حضرت صاحب مجھے بھی ساتھ لے جاتے مجھے