تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 862

تذکار مہدی — Page 318

تذکار مهدی ) 318 روایات سید نامحمود یاد ہے برسات کا موسم تھا ایک چھوٹے سے گڑھے میں پانی کھڑا تھا میں پھلانگ نہ سکا تو مجھے خود اٹھا کے آگے کیا گیا۔پھر کبھی شیخ حامد علی صاحب اور کبھی حضرت صاحب خود مجھے اٹھا لیتے۔اس وقت نہ تو مہمان تھا اور نہ یہ مکان تھے کوئی ترقی نہ تھی مگر ایک رنگ میں یہ بھی ترقی کا زمانہ تھا کیونکہ اس وقت حافظ حامد علی صاحب آ چکے تھے۔اس سے بھی پہلے جبکہ قادیان میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کوئی شخص نہ جانتا تھا خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا کہ تیرے پاس دور دور سے لوگ آئیں گے اور دور دور سے تحائف لائے جائیں گے۔اس وقت کی حالت کا اندازہ لگاتے ہوئے خدا تعالیٰ کے اس وعدہ کو ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے۔اے وہ شخص جس کو کہ اس کے محلے کے لوگ بھی نہیں جانتے ، جس کو اس کے شہر سے باہر دوسرے شہروں کے انسان نہیں جانتے ، جس کی گمنامی کی حالت سے لوگوں کو یہی خیال تھا کہ مرزا غلام قادر صاحب ہی اپنے باپ کے بیٹے ہیں میں تجھ جیسے شخص کو عزت دوں گا، دنیا میں مشہور کروں گا، عزت چل کر پاس آئے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو عزت ملی وہ اسی قسم کی ہے لوگ چل کر آئے اور عزت دی اور یہ سب باتیں اس نشان کے ماتحت ہوئیں اور ہو رہی ہیں جو خداتعالی نے حضرت صاحب کو اس وقت دیا جبکہ آپ کو قادیان میں بھی کوئی نہ جانتا تھا۔ابو جہل نہ ہوتا تو اتنا قرآن کہاں ہوتا (خطبات محمود جلد 10 صفحہ 246-247 ) | میں نے حضرت مسیح موعود سے خود سنا آپ فرماتے تھے کہ اگر غور کر کے دیکھا جائے تو کافر بھی رحمت ہوتے ہیں۔اگر ابو جہل نہ ہوتا تو اتنا قرآن کہاں اترتا۔اگر سارے حضرت ابو بکر ہی ہوتے تو صرف لَا اِلهَ اِلَّا الله ہی نازل ہوتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں ان کو ہر چیز میں بھلائی نظر آتی ہے۔ایک دفعہ لاہور میں ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو زور سے دھکا دیکر گرا دیا دوسرے دوست ناراض ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ اس نے مجھے جھوٹا سمجھ کر دھکا دیا ہے۔اگر وہ سچا سمجھتا تو کیوں ایسا کرتا۔اس نے تو اپنے خیال میں نیک کام کیا اور حق کی حمایت کی ہے۔(خطبات محمود جلد نمبر 10 صفحہ 299)