تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 862

تذکار مہدی — Page 263

تذکار مهدی 263 روایات سیّد نا محمود ہم اس کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ انسانوں میں کسی کو تباہ کرنے کی طاقت نہیں۔تعلیم الاسلام کالج کا قیام خطبات محمود جلد 23 صفحہ 551-552) در حقیقت ایک اچھے کالج کے لئے پچیس لاکھ روپے کی ضرورت ہوتی ہے ہم ڈیڑھ لاکھ روپیہ پہلے چندہ سے لے چکے ہیں اور ڈیڑھ لاکھ روپیہ اور بھی اس پر خرچ کیا جا چکا ہے اور دو لاکھ کی اب ضرورت ہے یہ پانچ لاکھ ہو گیا۔3لاکھ کی پھر ضرورت ہوگی تو یہ آٹھ لاکھ روپیہ ہو جائے گا۔اس کے بعد ہمیں پندرہ سولہ لاکھ روپے کی ریز روفنڈ کی ضرورت ہوگی جس سے لاکھ سوالا کھ روپیہ سالانہ آمدن ہوتی رہے اور کالج مضبوطی کے ساتھ قائم رہ سکے ایک وہ زمانہ تھا کہ ہمارے لئے ہائی کلاسز کو جاری کرنا بھی مشکل تھا یہاں آریوں کا مڈل سکول ہوا کرتا تھا شروع شروع میں اس میں ہمارے لڑکے جانے شروع ہوئے تو آریہ ماسٹروں نے ان کے سامنے لیکچر دینے شروع کئے کہ تم کو گوشت نہیں کھانا چاہئے گوشت کھانا ظلم ہے۔وہ اس قسم کے اعتراضات کرتے جو کہ اسلام پر حملہ تھے لڑکے سکول سے آتے اور یہ اعتراضات بتلاتے یہاں ایک پرحم پرائمری سکول تھا اس میں بھی اکثر آریہ مدرس آیا کرتے اور یہی باتیں سکھلایا کرتے تھے۔پہلے دن جب میں اس سرکاری پرائمری سکول میں پڑھنے گیا اور دو پہر کو میرا کھانا آیا تو میں سکول سے باہر نکل کر ایک درخت کے نیچے جو پاس ہی تھا۔کھانا کھانے کے لئے جا بیٹھا۔مجھے خوب یاد ہے کہ اس روز کلیجی پکی تھی اور وہی میرے کھانے میں بھجوائی گئی اس وقت میاں عمر دین صاحب مرحوم جو میاں عبداللہ صاحب حجام کے والد تھے وہ بھی اسی سکول میں پڑھا کرتے تھے لیکن وہ بڑی جماعت میں تھے اور میں پہلی جماعت میں تھا میں کھانا کھانے بیٹھا تو وہ بھی آپہنچے اور دیکھ کر کہنے لگے۔” ہیں ماس کھاندے او ماس“ حالانکہ وہ مسلمان تھے اس کی یہی وجہ تھی کہ آریہ ماسٹر سکھلاتے تھے کہ گوشت خوری ظلم ہے اور بہت بری چیز ہے ماس کا لفظ میں نے پہلی دفعہ ان سے سنا تھا اس لئے میں سمجھ نہ سکا کہ ماس سے مراد گوشت ہے چنانچہ میں نے کہا یہ ماس تو نہیں کلیجی ہے انہوں نے بتایا کہ ماس گوشت کو ہی کہتے ہیں۔پس میں نے ماس کا لفظ پہلی دفعہ ان کی زبان سے سنا اور ایسی شکل میں سنا کہ گویا ماس خوری بری ہوتی ہے اور اس سے بچنا چاہئے۔