تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 862

تذکار مہدی — Page 262

تذکار مهدی ) 262 روایات سید نا محمود ہماری جماعت میں ایسا ہے جس نے یہ دیکھا کہ ایک جماعت بن گئی ہے اور اس میں قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا ہو گیا ہے۔تو قوم کی خدمت کے لئے وہ اس جماعت میں شامل ہو گیا کیونکہ قومی خدمت کے لئے قربانی اور ایثار کرنے والوں کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ سوائے ہماری جماعت کے اور کہیں نہیں مل سکتے۔ایسے لوگ چاہتے ہیں کہ انجمنیں بنائیں، مدر سے بنائیں، دفاتر بنا ئیں اور دنیوی رنگ میں قوم کی بہبودی کے کام کریں۔ایسے لوگ بے شک ہم کو مانتے ہیں مگر اپنے کاموں کا آلہ کار بنانے کے لئے ہمارے مقام کو سمجھ کر نہیں مانتے۔مگر ان کے علاوہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں۔جنہوں نے ہم کو سچے دل سے مانا وہ ہمیں خدا کا مامور سمجھتے ہیں اور ان کی نگاہ پہلے ہم پر پڑتی ہے اور ہم سے اُتر کر پھر کسی اور پر پڑتی ہے۔اصل مخلص وہی ہیں۔باقی جس قدر ہیں وہ ابتلاء اور ٹھوکر کھانے کے خطرہ میں ہیں۔یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے میرے سامنے بیان کی تھی۔حالانکہ میری عمر اس وقت بہت چھوٹی تھی۔آپ کا اس بات کا میرے سامنے بیان کرنا بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم کے ماتحت آپ اس بات کو جانتے تھے۔کہ لوگوں کی نگرانی کسی زمانہ میں میرے سپرد ہونے والی ہے اور آپ نے اسی وقت مجھے ہوشیار کر دیا۔چنانچہ ایک ٹکراؤ تو میری خلافت کے شروع ہوتے ہی انجمن والوں سے ہو گیا اور وہ قادیان سے نکل گئے۔باقی جو غلو کرنے والے ہیں۔وہ بھی ہمیشہ رہتے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ان کا سر کچلتے رہیں۔اس کے مقابلہ میں ایک تیسرے گروہ کا پیدا ہو جانا بھی کوئی بعید از قیاس نہیں۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے درجہ میں غلو سے کام لے۔اگر ہم ان لوگوں کو نہ دبائیں۔تو یہ دین کو کہیں کا کہیں لے جائیں گے۔ہم بے شک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ کا رسول کہتے ہیں۔مگر نفسانیت کی وجہ سے نہیں اس وجہ سے نہیں کہ ہم احمد یہ جماعت میں شامل ہیں اگر ہمارے سلسلہ کا بانی رسول ہو گا تو ہماری شان بہت بڑھ جائے گی۔ہم اگر آپ کو رسول کہتے ہیں۔تو صرف اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول کہا اور خدا تعالیٰ کے رسول نے آپ کو رسول کہا۔اگر یہ بات نہ ہوتی تو ہم میں سے جو راست باز ہوتے۔وہ کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رسول نہ کہتے۔لیکن جب ہمیں یقین پیدا ہو گیا کہ آپ کو خدا نے رسول کہا اور ہمیں یقین پیدا ہو گیا کہ آپ کو خدا کے رسول نے رسول کہا ہے۔تو پھر ہم نے فیصلہ کرلیا کہ اب اس کے بعد دشمن کے حملوں کی پرواہ نہیں کی جاسکتی۔وہ بے شک مخالفت کرے۔ہم آپ کو ضرور رسول کہیں گے۔چنانچہ دیکھ لو کتنے سالوں سے دشمن قادیان پر حملہ کر رہا ہے۔مگر