تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 862

تذکار مہدی — Page 193

تذکار مهدی ) 193 روایات سید نا محمودی قاعدہ سرکاری چاہئے تو یہ تھا کہ مجسٹریٹ یک طرفہ ڈگری دے کر آپ کے خلاف فیصلہ سنا دیتا مگر اللہ تعالیٰ کو آپ کی یہ بات ایسی پسند آئی کہ اس نے مجسٹریٹ کی توجہ کو اس طرف سے پھیر دیا اور اس نے آپ کی غیر حاضری کو نظر انداز کر کے فیصلہ آپ کے والد صاحب کے حق میں کر دیا۔دعوۃ الا میر۔انوار العلوم جلد 7 صفحہ 575) گھر میں باجماعت نماز ادا کرنا افسوس ہے کہ باوجود باجماعت نماز کے مواقع کے بہم پہنچنے کے ابھی ہماری جماعت میں اس کا رواج اتنا نہیں جتنا ہونا چاہئے۔پہلے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ دوست ایک دوسرے سے دُور دُور رہتے تھے اور دوسروں کے ساتھ وہ پڑھ نہ سکتے تھے اس لئے یہ عادت پڑ گئی کہ گھروں میں نماز پڑھ لی جائے اگر چہ اس صورت میں بھی نماز باجماعت کی یہ ترکیب ہے کہ بیوی بچوں کو ساتھ لے کر جماعت کرالی جائے تو عادت نہ ہونے کی وجہ سے باجماعت نماز کی قیمت لوگوں کے دلوں میں نہیں رہی اس عادت کو ترک کر کے نماز باجماعت کی عادت ڈالنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایسے مواقع پر جب نماز کے لئے مسجد میں نہ جاسکتے تھے گھر میں ہی جماعت کرالیا کرتے تھے اور شاذ ہی کسی مجبوری کے ماتحت الگ نماز پڑھتے تھے۔اکثر ہماری والدہ کو ساتھ ملا کر جماعت کرا لیتے تھے والدہ کے ساتھ دوسری مستورات بھی شامل ہو جاتی تھیں پس اول تو ہر جگہ دوستوں کو جماعت کے ساتھ مل کر نماز ادا کرنی چاہئے اور جس کو یہ موقع نہ ہو اسے چاہئے کہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہی مل کر نماز با جماعت کرالیا کرے ہر جگہ دوستوں کو نماز باجماعت کا انتظام کرنا چاہئے۔جہاں شہر بڑا ہو اور دوست دُور دُور رہتے ہوں وہاں محلہ وار جماعت کا انتظام کرنا چاہئے۔جہاں مساجد نہیں ہیں وہاں مساجد بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔میں نے دیکھا ہے بعض جگہ کے دوستوں میں یہ نقص ہے کہ وہ یہ ارادہ کر لیتے ہیں کہ فلاں جگہ ملے گی تو مسجد بنائیں گے ایسے دوستوں کو سوچنا چاہئے کہ کیا خدا تعالیٰ سے ملاقات کو بیوی کی ملاقات جتنی بھی اہمیت نہیں کیا کوئی شخص یہ بھی کبھی کہتا ہے کہ جب مجھے فلاں محلہ میں زمین ملے گی تو وہاں مکان بنا کر شادی کروں گا ؟ پھر خدا تعالیٰ کی ملاقات کے لئے گھر کی تعمیر کو کسی خاص