تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 862

تذکار مہدی — Page 194

تذکار مهدی ) 194 روایات سیّد نا محمود جگہ ملنے پر ملتوی رکھنا کیونکر درست ہو سکتا ہے۔جہاں بھی جگہ ملے مسجد بنا لینی چاہئے پھر اگر اپنی پسند کی جگہ حاصل ہو جائے تو اس کے سامان کو وہاں لے جا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔مسجد کے سامان سے بہتر مسجد بنانے میں کیا حرج ہے۔آخر ہر مسجد خانہ کعبہ کی حیثیت تو نہیں رکھتی کہ اسے اپنی جگہ سے ہلایا نہیں جاسکتا۔( بعض اہم اور ضروری امور، انوار العلوم جلد 16 صفحہ 494-493) نماز وقار کے ساتھ پڑھنی چاہئے نماز اپنی تمام قیود اور پابندیوں کے ساتھ ایک انتہا درجہ کی خوبصورت چیز ہے۔مگر جب ہم اپنی غفلت اور نادانی کی وجہ سے اس کو چھانٹتے چلے جائیں تو وہ بے فائدہ اور لغو چیز بن جاتی ہے اور ایسی نماز کبھی با برکت نہیں ہو سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ لوگ نماز اس طرح پڑھتے ہیں۔جس طرح مرغ ٹھونگے مار کر دانے چگتا ہے۔ایسی نماز یقیناً کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی بلکہ بعض دفعہ ایسی نماز لعنت کا موجب بن جاتی ہے۔الفضل 20 مئی 1939 ء جلد 27 نمبر 115 صفحہ 4 باطن ظاہر کے بغیر کوئی حقیقت نہیں رکھتا پس اپنے اندر عزم پیدا کرو اور ظواہر کو بھی قائم کرو۔میں نے دیکھا ہے چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے باطن پر زیادہ زور دیا ہے۔اس لیے ہماری جماعت میں ظاہر پر عمل کرنے کی عادت کم ہوتی جا رہی ہے۔میں دیکھتا ہوں صحابہ جتنے روزے رکھتے تھے اتنے ہماری جماعت نہیں رکھتی۔صحابہ جتنی نمازیں پڑھتے تھے وہ ہماری جماعت میں نہیں پائی جاتیں۔ہمارے نو جوانوں میں تہجد اور نوافل پڑھنے کی عادت بہت ہی کم پائی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایسے نوجوان عام پائے جاتے تھے جو تہجد اور نوافل با قاعدہ پڑھتے تھے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ آجکل لوگ عموماً یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اصل چیز تو دل کی محبت ہے۔باقی سب چیزیں ظاہری ہیں جن کی خاص ضرورت نہیں۔روحانیت کی مثال دودھ کی سی ہے۔کیا دودھ بغیر پیالے کے رہ سکتا ہے؟ پیالہ ہوگا تو دودھ باقی رہے گا۔اسی طرح بے شک باطن ہی اصل چیز ہے لیکن وہ ظاہر کے بغیر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔