تذکار مہدی — Page 146
تذکار مهدی ) 146 روایات سید نا محمودی جواب میں اُنہوں نے بے ساختہ طور پر کہا کہ یہاں آنے کی تحریک مجھے مولوی ثناء اللہ صاحب نے کی۔میں تو شاید اپنی عمر کے لحاظ سے نہ ہی سمجھا ہوں گا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس پر ہنس پڑے اور فرمایا۔کس طرح ؟ اُنہوں نے کہا مولوی ثناء اللہ صاحب کی کتابیں دربار میں آئیں۔نواب صاحب بھی پڑھتے تھے اور مجھے بھی پڑھنے کے لئے کہا گیا تو میں نے کہا جو جو حوالے یہ لکھتے ہیں میں ذرا مرزا صاحب کی کتابیں بھی نکال کر دیکھ لوں کہ وہ حوالے کیا ہیں۔خیال تو میں نے یہ کیا کہ میں اس طرح احمدیت کے خلاف اچھا مواد جمع کرلوں گا لیکن جب میں نے حوالے نکال کر پڑھنے شروع کئے تو ان کا مضمون ہی اور تھا۔اس سے مجھے اور دلچسپی پیدا ہوئی اور میں نے کہا کہ چند اور صفحے بھی اگلے پچھلے پڑھ لوں۔جب میں نے وہ پڑھے تو مجھے معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور آپ کی شان اور آپ کی عظمت جو مرزا صاحب بیان کرتے ہیں وہ تو ان لوگوں کے دلوں میں ہے ہی نہیں۔پھر کہنے لگے مجھے فارسی کا شوق تھا۔اتفاقاً مجھے درشین فارسی مل گئی اور میں نے وہ پڑھنی شروع کی تو اس کے بعد میرا دل بالکل صاف ہو گیا اور میں نے کہا کہ جا کر بیعت کرلوں۔تو مخالفت ایک رنگ میں مفید بھی ہو ا کرتی ہے اور ایک رنگ میں مضر بھی ہوا کرتی ہے یعنی لوگ جوش میں آجاتے ہیں اور بعض دفعہ فساد کرنے لگ جاتے ہیں اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ سلسلہ کی باتیں سننے سے آئندہ محروم رہ جاتے ہیں۔پس ان دونوں نقطہ نگاہ سے ہمیں اپنے نظریئے تبدیل کرنے پڑتے ہیں۔جو مخالفت کا نقطہ نگاہ ہے اس سے ہم کو اپنا یہ نقطہ نگاہ تبدیل کرنا پڑتا ہے کہ ہم جس چستی کے ساتھ اپنا لٹریچر لکھ رہے تھے ، جس طرز سے ہم اپنا لٹریچر لکھ رہے تھے، جس طرح ہم اس کی اشاعت کر رہے تھے، جس طرح ہم تبلیغ کر رہے تھے ہم کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ ہم پرانے ڈگر پر چل سکیں اور اپنے پرانے طریق پر لوگوں تک پہنچ سکیں کیونکہ اب لوگوں کے دل ہماری نسبت انقباض محسوس کر رہے ہیں اور اب ہمیں ان تک پہنچنے کے لئے نئے طریقے اور نئی طرزیں ایجاد کرنی پڑیں گی۔اور جہاں تک لوگوں کو توجہ ہوتی ہے اس کے لحاظ سے ہمارے لئے سہولت پیدا ہو جاتی ہے کہ لوگ خود ہمارے گھروں تک پہنچتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے اس زمانہ میں بھی مخالفت کے باوجود کئی لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور وہ یہی بتاتے ہیں کہ ہم نے مخالفوں کی باتیں سنیں اور اس کی وجہ