تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 862

تذکار مہدی — Page 147

تذکار مهدی ) 147 روایات سید نامحمود سے سلسلہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔چشمہ ہدایت، انوار العلوم جلد 22 صفحہ 433 تا 435) مخالفت توجہ الہی سلسلہ کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئی دفعہ ہم نے ایک واقعہ سنا ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ دشمن جب ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں تو ہمیں امید ہوتی ہے کہ ان میں سے سعید روحیں ہماری طرف آجائیں گی لیکن جب نہ تو لوگ ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور نہ ہی مخالفت کرتے ہیں اور بالکل خاموش ہو جاتے ہیں تو یہ بات ہمارے لئے تکلیف دہ ہوتی ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ نبی کی مثال اُس بڑھیا کی سی ہوتی ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کچھ پاگل سی تھی اور شہر کے بچے اُسے چھیڑا کرتے تھے اور وہ انہیں گالیاں اور بد دعائیں دیا کرتی تھی آخر بچوں کے ماں باپ نے تجویز کی کہ بچوں کو روکا جائے کہ وہ بڑھیا کو دق نہ کیا کریں چنانچہ انہوں نے بچوں کو سمجھایا مگر بچے تو بچے تھے وہ کب باز آنے والے تھے یہ تجویز بھی کارگر ثابت نہ ہوئی۔آخر بچوں کے والدین نے فیصلہ کیا کہ بچوں کو باہر نہ نکلنے دیا جائے اور دروازوں کو بند رکھا جائے چنانچہ انہوں نے اس پر عمل کیا اور دو تین دن تک بچوں کو باہر نہ نکلنے دیا۔اس بڑھیا نے جب دیکھا کہ اب بچے اسے دق نہیں کرتے تو وہ گھر گھر جاتی اور کہتی کہ تمہارا بچہ کہاں گیا ہے؟ کیا اسے سانپ نے ڈس لیا ہے؟ کیا وہ ہیضہ سے مر گیا ہے؟ کیا اس پر چھت گر پڑی ہے؟ کیا اس پر بجلی گر گئی ہے؟ غرض وہ ہر دروازہ پر جاتی اور اس قسم کی باتیں کرتی آخر لوگوں نے سمجھا کہ بڑھیا نے تو پہلے سے بھی زیادہ گالیاں اور بد دعائیں دینی شروع کر دی ہیں اس لئے بچوں کو بند رکھنے کا کیا فائدہ اُنہوں نے بچوں کو چھوڑ دیا۔آپ فرمایا کرتے تھے یہی حالت نبی کی ہوتی ہے۔جب مخالفت تیز ہوتی ہے تب بھی اسے تکلیف ہوتی ہے اور جب مخالف چپ کر جاتے ہیں تب بھی اسے تکلیف ہوتی ہے کیونکہ جب تک مخالفت نہ ہو لوگوں کی توجہ الہی سلسلہ کی طرف پھر نہیں سکتی۔(رسول کریم ﷺ کی زندگی کے اہم واقعات، انوار العلوم جلد 19 صفحہ 152 ) کامل اخلاق ہی سے فضل ملتا ہے مؤمن کو سب سے زیادہ توجہ روحانی تعلق کی طرف کرنی چاہئے ان لوگوں کی طرح