تذکار مہدی — Page 113
تذکار مهدی ) 113 روایات سیّد نا محمود نا ہے کہ جس چیز کو وہ اچھا سمجھتا ہے وہ دراصل بُری ہے اور جو اسے بُری نظر آتی ہے وہ اس کے خطبات محمود جلد سوم صفحہ 271-270) لئے اچھی ہے۔بچپن سے اسلامی آداب سکھانے چاہئیں میں نے دیکھا ہے کہ نوجوانوں کو اسلامی آداب سکھانے کی طرف توجہ ہی نہیں کی جاتی نو جوان بے تکلفانہ ایک دوسرے کی گردن میں باہیں ڈالے پھر رہے ہوتے ہیں حتی کہ میرے سامنے بھی ایسا کرنے میں انہیں کوئی باک نہیں ہوتا۔کیونکہ ان کو یہ احساس ہی نہیں کہ یہ کوئی بری بات ہے۔ان کے ماں باپ اور اساتذہ نے ان کی اصلاح کی طرف کبھی کوئی توجہ ہی نہیں کی۔حالانکہ یہ چیزیں انسانی زندگی پر بہت گہرا اثر ڈالتی ہیں۔میں نے دیکھا ہے۔بعض لوگوں کی بچپن میں تربیت کا اب تک مجھ پر اثر ہے اور جب وہ واقعہ یاد آتا ہے تو بے اختیار ان کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔ایک دفعہ میں ایک لڑکے کے کندھے پر کہنی ٹیک کر کھڑا تھا کہ ماسٹر قادر بخش صاحب نے جو مولوی عبد الرحیم صاحب درد کے والد تھے۔اس سے منع کیا اور کہا کہ یہ بہت بری بات ہے۔اس وقت میری عمر بارہ تیرہ سال کی ہوگی لیکن وہ نقشہ جب بھی میرے سامنے آتا ہے۔ان کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔اسی طرح ایک صو بیدار صاحب مراد آباد کے رہنے والے تھے ان کی ایک بات بھی مجھے یاد ہے ہماری والدہ چونکہ دلی کی ہیں اور دلی بلکہ لکھنو میں بھی تم “ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔بزرگوں کو بے شک آپ کہتے ہیں لیکن ہماری والدہ کے کوئی بزرگ چونکہ یہاں تھے نہیں کہ ہم ان سے ”آپ“ کہہ کر کسی کو مخاطب کرنا بھی سیکھ سکتے۔اس لئے میں دس گیارہ سال کی عمر تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ” تم ہی کہا کرتا تھا۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے مدارج بلند کرے۔صو بیدار محمد ایوب خان صاحب مراد آباد کے رہنے والے تھے گورداسپور میں مقدمہ تھا اور میں نے بات کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تم کہدیا۔وہ صو بیدار صاحب مجھے الگ لے گئے اور کہا کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرزند ہیں اور ہمارے لئے محل ادب ہیں۔لیکن یہ بات یاد رکھیں۔کہ ” تم“ کا لفظ برابر والوں کے لئے بولا جاتا ہے بزرگوں کے لئے نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے اس کا استعمال میں بالکل برداشت نہیں کر