تذکار مہدی — Page 112
تذکار مهدی ) 112 چھوٹا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسے شخص کی قربانی کی کیا قیمت ہوسکتی ہے۔حضرت اماں جان اور برکات کا نزول روایات سید نا محمود ( خطبات محمود جلد دوم صفحہ 174) مجھے خوب یاد ہے اس وقت تو بر امحسوس ہوتا تھا لیکن اب اپنے زائد علم کے ماتحت اس سے مزا آتا ہے۔اس وقت میری عمر بہت چھوٹی تھی مگر یہ خدا کا فضل تھا کہ باوجود یکہ لکھنے پڑھنے کی طرف توجہ نہ تھی جب سے ہوش سنبھالی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام پر کامل یقین اور ایمان تھا۔اگر اس وقت والدہ صاحبہ کوئی ایسی حرکت کرتیں جو میرے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان کے شایان نہ ہوتی تو میں یہ نہ دیکھتا کہ ان کا میاں بیوی کا تعلق ہے اور میرا ان کا ماں بچہ کا تعلق ہے بلکہ میرے سامنے پیر اور مرید کا تعلق ہوتا حالانکہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کچھ نہ مانگتا تھا۔والدہ صاحبہ ہی میری تمام ضروریات کا خیال رکھتی تھیں۔باوجود اس کے والدہ صاحبہ کی طرف سے اگر کوئی بات ہوتی تو مجھے گراں گزرتی۔مثلاً خدا کے کسی فضل کا ذکر ہوتا تو والدہ صاحبہ کہتیں میرے آنے پر ہی خدا کی یہ برکت نازل ہوئی ہے۔اس قسم کا فقرہ میں نے والدہ صاحبہ کے منہ سے کم از کم سات آٹھ دفعہ سنا اور جب بھی سنتا گراں گزرتا۔میں اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بے ادبی سمجھتا لیکن اب درست معلوم ہوتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اس فقرہ سے لذت پاتے تھے کیونکہ وہ برکت اسی الہام کے ماتحت ہوئی کہ یآدَمُ اسْكُنُ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةِ ایک آدم تو نکاح کے بعد جنت سے نکالا گیا تھا لیکن اس زمانہ کے آدم کے لئے نکاح جنت کا موجب بنایا گیا ہے۔چنانچہ نکاح کے بعد ہی آپ کی ماموریت کا سلسلہ جاری ہو ا۔خدا تعالیٰ نے بڑی بڑی عظیم الشان پیشگوئیاں کرائیں اور آپ کے ذریعہ دنیا میں نو ر نازل کیا اور اس طرح آپ کی جنت وسیع ہوتی چلی گئی۔اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلے آدم کے لئے جو جوڑا منتخب کیا گیا وہ صرف جسمانی لحاظ سے تھا مگر اس آدم کے لئے جو چنا گیا یہ روحانی لحاظ سے بھی تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے الاروَاحُ جُنُودٌ مُّجَنَّدَةٌ ارواح میں ایک دوسرے سے نسبت ہوتی ہے۔جب ایسی ارواح مل جائیں تو ان کے جوڑے بابرکت ہوتے ہیں۔پس مومن کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کرے اور اپنی رائے پر انحصار نہ رکھے۔اسے کیا پتہ