تذکار مہدی — Page 114
تذکار مهدی ) 114 روایات سید نا محمودی سکتا یہ پہلا سبق تھا جو انہوں نے اس بارہ میں مجھے دیا۔پس بڑوں کا فرض ہے کہ چھوٹوں کو یہ آداب سکھائیں۔بری عادت سے ٹوکنا چاہیئے ( الفضل 11 / مارچ 1939 ء جلد 27 نمبر 58 صفحہ 7 ) مجھے ایک دوست کا احسان اپنی ساری زندگی میں نہیں بھول سکتا اور میں جب کبھی اس دوست کی اولاد پر کوئی مشکل پڑی دیکھتا ہوں تو میرے دل میں ٹیس اٹھتی ہے اور ان کی بہبودی کے لئے دعائیں کیا کرتا ہوں۔1903ء کی بات ہے جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مولوی کرم دین والے مقدمہ کی پیروی کے لئے گورداسپور میں مقیم تھے وہ دوست جن کا میں ذکر کر رہا ہوں مراد آباد یو۔پی کے رہنے والے تھے اور فوج میں رسالدار میجر تھے۔محمد ایوب ان کا نام تھا۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملنے کے لئے گورداسپور آئے تھے۔انہوں نے دو باتیں ایسی کیس جو میرے لئے ہدایت کا موجب ہوئیں۔دتی میں رواج تھا کہ بچے باپ کو تم کہہ کر خطاب کرتے ، اسی طرح بیوی خاوند کو تم کہتی۔لکھنو وغیرہ میں آپ کے لفظ سے مخاطب کرتے ہیں۔گھر میں ہمیشہ تم تم کا لفظ سنتے رہنے سے میری عادت بھی تم “ کہنے کی ہو گئی تھی۔یوں تو میری عادت تھی کہ میں حتی الوسع حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کرنے سے کترا تا تھا لیکن اگر ضرورت پڑ جاتی اور مجبوراً مخاطب کرنا پڑتا تو تم “ کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔چنانچہ مجھے اس دوست کی موجودگی میں آپ سے کوئی بات کرنی پڑی اور میں نے “ کا لفظ استعمال کیا۔یہ لفظ سُن کر اس دوست نے مجھے بازو سے پکڑ لیا اور مجلس سے ایک طرف لے گئے اور کہا ” میرے دل میں آپ کا بڑا ادب ہے لیکن یہ ادب ہی چاہتا ہے آپ کو آپ کی غلطی سے آگاہ کروں اور وہ یہ کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کرتے وقت کبھی بھی "تم " کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیئے بلکہ آپ کے لفظ سے مخاطب کریں ور نہ آپ نے پھر یہ لفظ بولا تو جان لے لوں گا مجھے تو تم “ کا لفظ استعمال کرتے رہنے کی وجہ سے تم اور آپ میں کوئی فرق محسوس نہ ہوتا تھا بلکہ میں آپ کی نسبت تم کے لفظ کو زیادہ پسند کرتا تھا اور حالت یہ تھی کہ آپ کا لفظ بولتے ہوئے مجھے بوجہ عادت نہ ہونے کے کہ شرم سے پسینہ آجاتا تھا کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ ”آپ کہنا جرم ہے۔مگر اس دوست کے 66