تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 862

تذکار مہدی — Page 79

تذکار مهدی ) 79 روایات سید نا محمود جبرائیل نازل نہیں ہوتا۔میں نے کہا یہ غلط ہے میرے ابا پر تو نازل ہوتا ہے۔اس لڑکے نے کہا جبرائیل نہیں آتا کتاب میں لکھا ہے۔ہم میں بحث ہو گئی۔آخر ہم دونوں حضرت صاحب کے پاس گئے اور دونوں نے اپنا اپنا بیان پیش کیا۔آپ نے فرمایا۔کتاب میں غلط لکھا ہے۔جبرائیل (سوانح فضل عمر جلد اول صفحہ 149) اب بھی آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محبت کا ایک انداز بیوقوفی کے واقعات میں مجھے بھی اپنا ایک واقعہ یاد ہے۔کئی دفعہ اس واقعہ کو یاد کر کے میں ہنسا بھی ہوں اور بسا اوقات میری آنکھوں میں آنسو بھی آگئے ہیں۔مگر میں اسے بڑی قدر کی نگاہ سے بھی دیکھا کرتا ہوں اور مجھے اپنی زندگی کے جن واقعات پر ناز ہے۔ان میں وہ ایک حماقت کا واقعہ بھی ہے وہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک رات ہم سب صحن میں سورہے تھے گرمی کا موسم تھا کہ آسمان پر بادل آیا اور زور سے گر جنے لگا۔اسی دوران قادیان کے قریب ہی کہیں بجلی گر گئی مگر اس کی کڑک اس زور کی تھی کہ قادیان کے ہر گھر کے لوگوں نے یہ سمجھا کہ یہ بجلی شاید ان کے گھر میں ہی گرمی ہے۔اس کڑک اور کچھ بادلوں کی وجہ سے تمام لوگ کمروں میں چلے گئے جس وقت بجلی کی یہ کڑک ہوئی اس وقت ہم بھی جو صحن میں سورہے تھے اٹھ کر اندر چلے گئے مجھے آج تک وہ نظارہ یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب اندر کی طرف جانے لگے تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سر پر رکھ دیئے کہ اگر بجلی گرے تو مجھ پر گرے ان پر نہ گرے بعد میں جب میرے ہوش ٹھکانے آئے تو مجھے اپنی اس حرکت پر ہنسی آئی کہ ان کی وجہ سے تو ہم نے بجلی سے بچنا تھا نہ یہ کہ ہماری وجہ سے وہ بجلی سے محفوظ رہتے۔میں سمجھتا ہوں میری وہ حرکت ایک مجنون کی حرکت سے کم نہیں تھی۔مگر مجھے ہمیشہ خوشی ہوا کرتی ہے کہ اس واقعہ نے مجھ پر بھی اس محبت کو ظاہر کر دیا جو مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تھی بسا اوقات انسان خود بھی نہیں جانتا کہ مجھے دوسرے سے کتنی محبت ہے۔جب اس قسم کا کوئی واقعہ ہوتو اسے بھی اپنی محبت کی وسعت اور اس کی گہرائی کا اندازہ ہو جاتا ہے تو جس وقت محبت کا انتہائی جوش اٹھتا ہے عقل اس وقت کام نہیں کرتی محبت پرے پھینک دیتی ہے عقل کو اور محبت پرے پھینک دیتی ہے فکر کو اور وہ آپ سامنے آ جاتی ہے۔(سوانح فضل عمر جلد اول صفحہ 150-149)