تذکار مہدی — Page 80
تذکار مهدی ) حق الیقین 80 روایات سید نا محمود میں علمی طور پر بتلاتا ہوں کہ میں نے حضرت صاحب کو والد ہونے کی وجہ سے نہیں مانا تھا بلکہ جب میں گیارہ سال کے قریب تھا تو میں نے مصمم ارادہ کیا تھا کہ اگر میری تحقیقات میں وه نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹے نکلے تو میں گھر سے نکل جاؤں گا۔مگر میں نے ان کی صداقت کو سمجھا اور میرا ایمان بڑھتا گیائی کہ جب آپ فوت ہوئے تو میرا یقین اور بھی بڑھ گیا۔“ 1900 کا قابل یادگارسال (سوانح فضل عمر جلد اول صفحه 96) 1900 ء میرے قلب کو اسلامی احکام کی طرف توجہ دلانے کا موجب ہوا ہے اس وقت میں گیارہ سال کا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے کوئی شخص چھینٹ کی قسم کے کپڑے کا ایک جبہ لایا تھا۔میں نے آپ سے وہ جبہ لے لیا تھا کسی اور خیال سے نہیں بلکہ اس لئے کہ اس کا رنگ اور اس کے نقش مجھے پسند تھے میں اسے پہن نہیں سکتا تھا کیونکہ اس کے دامن میرے پاؤں کے نیچے لٹکتے رہتے تھے۔جب میں گیارہ سال کا ہو ا اور 1900ء نے دنیا نے قدم رکھا تو میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں خدا تعالیٰ پر کیوں ایمان لاتا ہوں اس کے وجود کا کیا ثبوت ہے؟ میں دیر تک رات کے وقت اس مسئلہ پر سوچتا رہا آخر دس گیارہ بجے میرے دل نے فیصلہ کیا کہ ہاں ایک خدا ہے۔وہ گھڑی میرے لئے کیسی خوشی کی گھڑی تھی جس طرح ایک بچہ کو اس کی ماں مل جائے تو اسے خوشی ہوتی ہے اسی طرح مجھے خوشی تھی یہ میرا پیدا کرنے والا مجھے مل گیا۔سماعی ایمان علمی ایمان سے تبدیل ہو گیا۔میں اپنے جاموں میں پھولا نہیں سماتا تھا۔میں نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور ایک عرصہ تک کرتا رہا کہ خدا یا مجھے تیری ذات کے متعلق کبھی شک پیدا نہ ہو۔اس وقت میں گیارہ سال کا تھا آج میں پینتیس (35) سال کا ہوں مگر آج بھی میں اس دعا کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔میں آج بھی یہی کہتا ہوں خدایا! تیری ذات کے متعلق مجھے کوئی شک پیدا نہ ہو۔ہاں اس وقت میں بچہ تھا۔اب مجھے زیادہ تجربہ ہے اب میں اس قدر زیادتی کرتا ہوں کہ خدا یا مجھے تیری ذات کے متعلق حق الیقین پیدا ہو۔