تذکار مہدی — Page 60
تذکار مهدی ) 60 روایات سید نا محمود ہیں۔انہوں نے بھی اپنی ملکیت ثابت کرنے کیلئے جھوٹی سچی گواہیاں دلائیں۔اس پر اس گھر کے مالکوں نے یہ امر پیش کر دیا کہ ہمیں کسی دلیل کی ضرورت نہیں ان کے چھوٹے بھائی کو بُلا کر گواہی لی جائے اور جو وہ کہہ دیں ہمیں منظور ہوگا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بطور گواہ عدالت میں پیش ہوئے اور جب آپ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ان لوگوں کو اس رستہ سے آتے جاتے اور اس پر بیٹھتے عرصہ سے دیکھ رہے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہاں۔اس پر عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔آپ کے بڑے بھائی صاحب نے اسے اپنی ذلت محسوس کیا اور بہت ناراض ہوئے مگر آپ نے فرمایا کہ جب واقعہ یہ ہے تو میں کس طرح انکار کر سکتا تھا۔اسی طرح آپ کے خلاف ایک مقدمہ چلایا گیا کہ آپ نے ڈاک خانہ کو دھوکا دیا ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ اس زمانہ میں یہ قانون تھا کہ اگر کوئی شخص پیکٹ میں کوئی چٹھی ڈال کر بھیج دے تو سمجھا جاتا تھا کہ اس نے ڈاک خانہ کو دھوکا دیا ہے اور ایسا کرنا فوجداری جرم قرار دیا جاتا تھا جس کی سزا قید کی صورت میں بھی دی جاسکتی تھی۔اب وہ قانون منسوخ ہو چکا ہے اب زیادہ سے زیادہ ایسے پیکٹ کو بیرنگ کر دیا جاتا ہے۔اتفاقاً آپ نے ایک پیکٹ مضمون کا اشاعت کیلئے ایک اخبار کو بھیجا اور اس قانون کے منشاء کونہ سمجھتے ہوئے اس میں ایک خط بھی لکھ کر ڈال دیا جو اس اشتہار کے ہی متعلق تھا اور جس میں اسے چھاپنے وغیرہ کے متعلق ہدایات تھیں۔پریس والے غالباً عیسائی تھے اُنہوں نے اس کی رپورٹ کر دی اور آپ پر مقدمہ چلا دیا گیا۔آپ کے وکیل نے کہا کہ پیش کرنے والوں کی مخالفت تو واضح ہے اس لئے ان کی گواہیوں کی کوئی حقیقت نہیں اگر آپ انکار کر دیں تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔اُس زمانہ میں اکثر مقدمات میں آپ کی طرف سے شیخ علی احمد صاحب وکیل گورداسپوری پیروی کیا کرتے تھے اور آپ کی پاکیزہ زندگی کو دیکھ کر دعوئی کے بعد بھی گو وہ احمدی نہ تھے آپ پر بہت حُسنِ ظن رکھتے تھے۔انہوں نے آپ سے کہا کہ اور کوئی گواہ تو ہے نہیں پھر وہ خط اسی مضمون کے متعلق ہے اور اسے اشتہار کا حصہ ہی کہا جا سکتا ہے اس لئے آپ بغیر جھوٹ کا ارتکاب کیئے کہہ سکتے ہیں کہ میں نے تو اشتہار ہی بھیجا تھا خط کوئی نہیں بھیجا۔مگر آپ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ یہ نہیں ہوسکتا جو بات میں نے کی ہے اس کا انکار کس طرح کر سکتا ہوں۔چنانچہ جب آپ پیش ہوئے اور عدالت نے دریافت کیا کہ آپ نے کوئی خط مضمون میں ڈالا تھا تو آپ نے فرمایا ہاں۔اس