تذکار مہدی — Page 59
تذکار مهدی ) 59 روایات سید نا محمود میں نے درد صاحب سے پوچھا کہ یہ کون ہے جس نے سلام کیا ہے۔وہ کہنے لگے ابھی تو آپ ان سے مل کر آئے ہیں۔یہ لارڈ ولنگڈن تھے اور انہوں نے تو آپ کو دیکھ کر دور سے ہی سلام کرنا شروع کر دیا تھا۔میں نے کہا میں نے تو نہیں پہچانا۔شاید وہ اپنے دل میں خیال کرتے ہوں گے کہ بڑے کھردرے آدمی ہیں۔میں نے سلام بھی کیا مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔حالانکہ میں نے یہ سمجھا تھا کہ کوئی اجنبی آدمی ہے جو کسی اور کو سلام کر رہا ہے۔تو اللہ تعالیٰ خود ہی اپنے بندوں کا دوسروں کے دلوں پر رعب ڈال دیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک مہینہ کی مسافت پر بھی میرا دشمن ہوتو اللہ تعالی اس پر میرا رعب ڈال دیتا ہے۔یہ رعب اپنے اپنے درجہ اور مقام کے مطابق ہوتا ہے۔کسی کا مہینہ بھر کی مسافت تک رعب جاتا ہے۔کسی کا چند دنوں کے فاصلہ تک رعب جاتا ہے۔کسی کا چند گھنٹوں کے فاصلہ تک رعب جاتا ہے۔مگر ہوتا یہی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں۔( الفضل 3 /اکتوبر 1958 ء جلد 47/12 نمبر 228 صفحہ 7 ) اللہ تعالیٰ ان کا ہو جاتا ہے۔اپنے خاندان کے خلاف سچی گواہی کچھ عرصہ ہوا میں نے کچھ خطبات عملی اصلاح کے متعلق پڑھے تھے اور جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ وہ عظیم الشان مقصد جس کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت ہوئی اسے پورا کرنے کے لیئے ہمیں بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے۔اعتقادی رنگ میں ہم نے دنیا پر اپنا سکہ جمالیا ہے مگر عملی رنگ میں اسلام کا سکہ جمانے کی ابھی ضرورت ہے کیونکہ اس کے بغیر مخالفوں پر حقیقی اثر نہیں ہو سکتا۔موٹی مثال عملی رنگ میں سچائی کی ہے یہ ایسی چیز ہے جسے دشمن بھی محسوس کرتا ہے۔دل کا اخلاص اور ایمان دشمن کو نظر نہیں آتا مگر سچائی کو وہ دیکھ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے پہلے کا واقعہ ہے کہ خاندانی جائداد کے متعلق ایک مقدمہ تھا اسی مکان کے چبوترے کے متعلق جس میں اب صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر ہیں اس چبوترے کی زمین دراصل ہمارے خاندان کی تھی مگر اس پر دیرینہ قبضہ اس گھر کے مالکوں کا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بڑے بھائی صاحب نے اس کے حاصل کرنے کیلئے مقدمہ چلایا اور جیسا کہ دنیا داروں کا قاعدہ ہے کہ جب زمین وغیرہ کے متعلق کوئی مقدمہ ہو اور وہ اپنا حق اس پر سمجھتے ہوں تو اس کے حاصل کرنے کیلئے جھوٹی سچی گواہیاں مہیا کرتے