تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 862

تذکار مہدی — Page 61

تذکار مهدی ) 61 روایات سیّد نا محمود نامحمودی راستبازی کا دوسروں پر تو اثر ہونا تھا ہی خود عدالت پر بھی اس قدر اثر ہوا کہ اس نے آپ کو بری کر دیا اور کہا کہ ایک اصطلاحی مجرم کیلئے ایسے راستباز آدمی کو سزا نہیں دی جاسکتی۔اسی طرح کئی واقعات مقدمات میں آپ کو ایسے پیش آتے رہے جن کی وجہ سے ان وکلاء کے دلوں میں جن کو ان مقدمات سے تعلق رہا کرتا تھا آپ کی بہت عزت تھی۔چنانچہ ایک مقدمہ میں آپ نے شیخ علی احمد صاحب کو وکیل نہ کیا تو انہوں نے لکھا کہ مجھے افسوس ہے کہ آپ نے اس مقدمہ میں مجھے وکیل نہیں کیا اس لیئے نہیں کہ میں کچھ لینا چاہتا تھا بلکہ اس لئے کہ مجھے خدمت کا موقع نہیں مل سکا۔تو سچائی اور راستبازی ایک ایسی چیز ہے کہ دشمن بھی اس سے اثر قبول کیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔شیخ علی احمد صاحب آخر تک غیر احمدی رہے اور انہوں نے بیعت نہیں کی مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے ظاہری رنگ میں آپ کا اخلاص احمدیوں سے کسی طرح کم نہ تھا اور اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے آپ کی سچائ کو ملاحظہ کیا تھا اورصف شیخ علی احمد صاحب پر ہی کیا موقوف ہے جن جن کو بھی آپ سے ملنے کا اتفاق ہوا ان کی یہی حالت تھی۔جب جہلم میں مولوی کرم دین صاحب نے آپ پر مقدمہ کیا تو ایک ہندو وکیل لالہ بھیم سین صاحب کی چٹھی آئی کہ میرا لڑکا بیرسٹری پاس کر کے آیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اسے آپ کی خدمت کرنے کی سعادت حاصل ہو اس لیے آپ اس کو اجازت دیں کہ وہ آپ کی طرف سے پیش ہو۔جس لڑکے کے متعلق انہوں نے یہ خط لکھا تھا وہ اب تک زندہ ہیں۔پہلے لاء کالج کے پرنسپل تھے پھر جموں ہائیکورٹ کے چیف جج مقرر ہوئے اور اب وہاں سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔انہوں نے الحاح سے یہ درخواست اس واسطے کی کہ اُن کو سیالکوٹ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ کچھ عرصہ رہنے کا اتفاق ہوا تھا اور وہ آپ کی سچائی کو دیکھ چکے تھے۔پس معلوم ہوا کہ سچائی ایک اعلیٰ پایہ کی چیز ہے جسے دیکھ کر دشمن کو بھی متاثر ہونا پڑتا ہے۔سچائی ایک ایسی چیز ہے جو اپنوں پر ہی نہیں بلکہ غیروں پر بھی اثر کیئے بغیر نہیں رہ سکتی۔انبیاء دنیا میں آکر راستی اور سچائی کو قائم کرتے ہیں اور ایسا نمونہ پیش کرتے ہیں کہ دیکھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور نقل کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے دنیا میں آکر کوئی تو ہیں اور مشین گنیں ایجاد نہیں کی تھیں، بینک جاری نہیں کیئے تھے یا صنعت و حرفت کی مشینیں ایجاد نہیں کی تھیں پھر وہ کیا چیز تھی جو آپ نے دنیا کو دی اور جس کی حفاظت آپ کے ماننے والوں کے ذمہ تھی۔وہ سچائی کی روح اور اخلاق فاضلہ تھے۔یہ چیز پہلے مفقود تھی آپ نے اسے کمایا اور پھر یہ خزانہ دنیا کو دیا اور صحابہ اور اُن کی اولادوں اور پھر ان کی اولادوں کے ذمہ یہی کام تھا کہ ان چیزوں کی حفاظت کریں۔( خطبات محمود جلد 17 صفحہ 542 تا 545)