تذکار مہدی — Page 770
تذکار مهدی ) 770 روایات سید نا محمود فائدہ میں رہا پس صداقت ایک ایسی چیز ہے جو دلوں کو فتح کرتی ہے۔سفر میں جمعہ کی نماز خطبات محمود جلد 17 صفحہ 121-120 ) | مجھ سے ایک سوال کیا گیا ہے۔ابھی جمعہ کی نماز کے وقت بعض دوستوں میں اختلاف ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فتویٰ ہے کہ اگر نمازیں جمع کی جائیں تو پہلی پچھلی اور درمیان کی سنتیں معاف ہوتی ہیں۔اس میں شک نہیں کہ جب نماز ظہر و عصر جمع ہوں تو پہلی اور درمیانی سنتیں معاف ہوتی ہیں یا اگر نماز مغرب اور عشاء جمع ہوں تو درمیانی اور آخری سنتیں معاف ہو جائیں گی لیکن اختلاف یہ کیا گیا ہے کہ ایک دوست نے بیان کیا کہ وہ ایک سفر میں میرے ساتھ تھے۔میں نے جمعہ اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھائیں اور جمعہ کی پہلی سنتیں پڑھیں یہ دونوں باتیں صحیح ہیں۔نمازوں کے جمع ہونے کی صورت میں سنتیں معاف ہو جاتی ہیں۔یہ بات بھی صحیح ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز سے قبل جو سنتیں پڑھا کرتے تھے۔میں نے وہ سفر میں پڑھیں اور پڑھتا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جمعہ کی نماز سے پہلے جو نوافل پڑھے جاتے ہیں۔وہ نماز ظہر کی پہلی سنتوں سے مختلف ہیں۔ان کو دراصل رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے اعزاز میں قائم فرمایا ہے۔سفر میں جمعہ کی نماز پڑھنا بھی جائز ہے اور چھوڑ نا بھی جائز ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سفر میں پڑھتے بھی دیکھا ہے اور چھوڑتے بھی دیکھا ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک مقدمہ کے موقعہ پر گورداسپور تشریف لے گئے ہوئے تھے اور آپ نے فرمایا کہ آج جمعہ نہیں ہوگا کیونکہ ہم سفر پر ہیں۔ایک صاحب جن کی طبیعت میں بے تکلفی ہے وہ آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ سنا ہے۔حضور نے فرمایا ہے۔آج جمعہ نہیں ہوگا۔حضرت خلیفہ اسیح الاول یوں تو ان دنوں گورا سپور میں ہی تھے۔مگر اس روز کسی کام کے لئے قادیان آئے تھے۔ان صاحب نے خیال کیا کہ شاید جمعہ نہ پڑھے جانے کا ارشاد آپ نے اس لئے فرمایا ہے کہ مولوی صاحب یہاں نہیں ہیں۔اس لئے کہا کہ حضور مجھے بھی جمعہ پڑھانا آتا ہے۔آپ نے فرمایا۔ہاں آتا ہوگا۔مگر ہم تو سفر پر ہیں۔ان صاحب نے کہا کہ حضور مجھے اچھی طرح جمعہ پڑھانا آتا ہے اور