تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 769 of 862

تذکار مہدی — Page 769

روایات سید نامحمود تذکار مهدی ) 769 کے لیے ایک احمدی پر اعتماد کرتا ہے وہ پبلک میں آکر تو یہ کہتا ہے کہ کسی احمدی کا منہ تک نہ دیکھو مگر خود ایک احمدی کے سوا کسی پر اعتماد نہیں کرتا۔پس جہاں بھی احمدیوں نے اپنے معیار کو قائم رکھا ہے دشمنوں نے بھی ان کی دیانت اور قابلیت کو تسلیم کیا ہے۔ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے مجھے ایک رپورٹ پہنچی کہ ایک احمدی افسر کے متعلق بعض لوگوں نے بہت شور مچایا مگر جب بالا افسروں نے تحقیقات کی تو مخالفوں کے ایک حصہ نے ہی گواہیاں دیں کہ گذشتہ سالہاسال سے ایساد یا نتدار کوئی افسر ہمارے علاقہ میں آیا ہی نہیں۔پہلے جو بھی آتا تھا رشوت لیتا تھا صرف یہی ایک ہے جو انصاف سے کام لیتا ہے اور افسران بالا کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ وہ بہت دیانتدار آدمی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک دوست فوج میں ملازم تھے بعض فوجی کبھی جوش میں آکر لوٹ مار بھی کر لیتے ہیں اور بعض افسر فوج کی نیک نامی کے قیام کے لیئے اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ جس کمپنی میں تھے اُس کا بھی اُس وقت یہی حال تھا لیکن وہ احمدی سچا اور مخلص احمدی تھا وہ ہمیشہ سچی بات کہہ دیتا اور اس وجہ سے ہندوستانی افسر ہمیشہ اس سے ناراض رہتے وہ اکثر کوارٹر گارڈ میں ہی رہتا۔ایک دفعہ ان کی فوج کوئٹہ کی طرف گئی اور وہاں بعض فوجیوں کا ایک چھابڑی والے سے جھگڑا ہو گیا اور انہوں نے غصہ میں آکر اس کی چیزیں چھین لیں اور اسے مارا بھی۔پولیس نے اس معاملہ کی تحقیقات شروع کی تو چند ہندوستانی افسر اس میں رکاوٹیں ڈالنے لگے۔عدالت میں مقدمہ پیش ہوا مجسٹریٹ کوئی دیانتدار انگریز تھا جو چاہتا تھا کہ صداقت کھلے۔دُکانداروں نے اسے بتایا کہ فوجیوں کے ساتھ ایک می ایسا بھی تھا کہ جو ان کو اس کام سے منع کرتا تھا۔مجسٹریٹ نے فوجی افسروں کو لکھا کہ وہ شخص کہاں ہے اُسے پیش کیا جائے۔جواب میں لکھا گیا کہ وہ سزایاب ہے اور کوارٹرگارڈ میں ہے۔مجسٹریٹ نے لکھا کہ اسے گواہی کے لیے بھیج دو۔چنانچہ وہ پیش کیا گیا تو مجسٹریٹ نے اس سے پوچھا کہ تم سزایاب کیوں تھے؟ اُس نے صاف کہہ دیا کہ اسی لئے کہ گواہی نہ دے سکوں اور پھر صاف بات بتادی۔مجسٹریٹ نے اس کے افسروں کو لکھا کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کی آپ کے ہاں کھپت نہیں اسے ڈسچارج کر دیا جائے تو میں اسے پولیس افسر بنانا چاہتا ہوں اور اسے ڈسچارج دلا کر پولیس میں ایک اچھے عہدے پر مقرر کر دیا اور اس طرح راستی کی بدولت وہ مالی لحاظ سے بھی شخص