تذکار مہدی — Page 765
تذکار مهدی ) 765 روایات سید نا محمود بیہودہ حرکات کی تھیں تو وہاں سے اٹھ کر کیوں نہ گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں آریوں نے ایک جلسہ کیا۔اس میں انہوں نے شرارتاً ایسی طرز اختیار کی۔جس سے معلوم ہو کہ ان کی نیت نیک ہے اور وہ انصاف اور امن کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔چنانچہ انہوں نے ظاہر یہ کیا کہ وہ امن صلح اور آشتی کے ساتھ جلسہ کریں گے۔تمام مذاہب اپنی اپنی خوبیاں بیان کریں گے اور کسی دوسرے پر حملہ نہیں کریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی بعض احمدیوں کی معرفت اس جلسہ میں تقریر کرنے کی دعوت دی گئی۔در حقیقت یہ دعوت لاہور کے بعض احمد یوں کو تھی اور انہوں نے آگے اس دعوت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک پہنچا دیا اور آپ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ یہ نہایت عمدہ موقعہ ہے۔اگر اس جلسہ میں آپ کی تقریر ہو جائے۔تو جس طرح جلسہ مذاہب میں بھاری کامیابی ہوئی تھی۔اسی طرح اس جلسہ میں بھی بھاری کامیابی ہوگی اور اسلام کا بول بالا ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلے تو انکار کیا اور فرمایا کہ ہم ان لوگوں کی فطرت سے واقف ہیں۔ہمارا پرانا تجربہ ہے کہ وہ ضرور شرارت کریں گے۔لیکن انہوں نے کہا نہیں یہ لوگ بہت پچھتا رہے ہیں اور آپ کا طریق انہوں نے پسند کیا ہے کہ صرف اپنی اپنی خوبیاں بیان کی جائیں اور کسی دوسرے مذہب پر حملہ نہ کیا جائے۔آخر آپ نے تقریر تیار کی۔پھر سوال پیدا ہوا کہ یہ تقریر کون پڑھے۔مولوی عبد الکریم صاحب فوت ہو چکے تھے۔ان کے پڑھنے کی نرالی شان تھی۔آپ نے دوستوں کو بلا کر مشورہ کیا کہ جلسہ میں تقریر کون پڑھے۔شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے کہا کہ میں پڑھوں گا آپ نے کہا اچھا تقریر پڑھ کر سناؤ۔انہوں نے شروع کے ہی چند فقرے اتنے زور سے کہے کہ ان کا گلہ بیٹھ گیا۔اور پھٹی ہوئی ئے کی طرح آواز نکلنے گی آپ نے فرمایا آپ تقریر نہیں پڑھ سکتے۔اسی طرح ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے پڑھا۔اسی طرح حضرت خلیفتہ اسی اول نے پڑھا ( پڑھنے کی ترتیب مجھے یاد نہیں ) اگرچہ میں مجلس میں موجود تھا لیکن مجھے یاد نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان دونوں میں سے کس کو مقرر کیا تھا۔غالباً حضرت خلیفہ اُسی اول کو تقریر پڑھنے کا حکم ملا اور اگر وہ نباہ نہ سکیں تو ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو ان کی جگہ پڑھنے کا حکم ملا یا اس کے الٹ تھا یہ مجھے یاد نہیں احمدی لوگ بڑے شوق سے اس جلسہ میں شامل ہوئے۔مجھے یاد ہے کہ میں نے بڑے اصرار کے ساتھ اس جلسہ میں جانے کی اجازت لی اور چونکہ یہ اعلان کیا گیا تھا کہ جلسہ شرافت