تذکار مہدی — Page 766
تذکار مهدی ) 766 روایات سید نا محمود) انسانیت اور صلح پسندی سے ہوگا۔اس لئے ہم میں سے ہر ایک جانتا تھا کہ فتح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہی ہوگی اور آپ کی تقریر ہی جیتے گی۔کیونکہ جہاں شرافت ہو اور انسانیت اور صلح پسندی سے کام لیا جائے۔وہاں فتح ہماری ہی ہوتی ہے۔ملکہ وکٹوریہ کی جو بلی پر چراغاں الفضل 12 / مارچ 1952 ، جلد 40/6 نمبر 62 صفحہ 2 میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے چراغاں ثابت ہے آپ نے دوبار ملکہ وکٹوریہ اور غالباً شاہ ایڈورڈ کی جو بلیوں پر چراغاں کرایا یا شاید دونوں جو بلیاں ملکہ وکٹوریہ ہی کی تھیں اور مجھے خوب یاد ہے کہ دونوں مواقع پر چراغاں کیا گیا چونکہ بچپن میں ایسی باتیں اچھی لگتی ہیں اس لئے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مسجد مبارک کے کناروں پر چراغ جلائے گئے اور بنولے ختم ہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آدمی بھیجا کہ جا کر اور لائے۔ہمارے مکان پر بھی مسجد میں بھی اور مدرسہ پر بھی چراغ جلائے گئے تھے اور میر محمد اسحاق صاحب نے بھی اس کی شہادت دی ہے اس لئے خالی چراغاں کی مخالفت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔میرا عقیدہ ہے کہ حکم و عدل ہونے کی حیثیت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآنی نص کے خلاف کوئی بات نہیں کرتے تھے اور چراغاں آپ سے ثابت ہے اس کے متعلق گواہیاں بھی موجود ہیں اور الحکم میں بھی یہ درج ہے اس لئے خاص چراغاں کے متعلق کسی بحث کی ضرورت نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس رنگ میں جو خوشی کا اظہار کیا وہ اپنے اندر ایک حکمت رکھتا ہے جیسا کہ مؤمن کی ہر بات اپنے اندر حکمت رکھتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو چراغاں کرایا وہ ایک سیاسی مصلحت پر مبنی تھا۔اور اسی طرح بعض اوقات آپ ہمیں آتشبازی بھی لے دیا کرتے تھے تاکہ بچوں کا دل خوش ہو اور فرمایا کرتے تھے کہ گندھک کے جلنے سے جراثیم ہلاک ہو جاتے ہیں۔چنانچہ آپ نے کئی دفعہ ہمیں انار اور پھلجھڑیاں وغیرہ منگوا کر دیں۔گو یہ ایک قسم کا ضیاع ہے مگر اس میں وقتی فائدہ بھی ہے گو ایسا نمایاں نہیں مگر اس سے بچوں کا دل خوش ہو جاتا تھا اور بچوں کے جذبات کو دبانے سے جو نقصان پہنچ سکتا ہے اس سے بچاؤ ہو جاتا تھا مگر آپ نے ساری جماعت کو آتش بازی چلانے کا حکم نہیں دیا۔رپورٹ مجلس مشاورت 1939ء صفحہ 74-75)