تذکار مہدی — Page 646
تذکار مهدی ) 646 روایات سید نامحمودی قو میں قتل کرتی ہیں ان میں گالیاں دینے کی عادت کم ہوتی ہے اور جو قتل نہیں کرتیں اُن میں گالیاں دینے کی عادت زیادہ ہوتی ہے۔پس در حقیقت گالی قتل کے قائم مقام ہوتیں ہیں اور اس میں کیا شبہ ہے کہ بعض دفعہ گالی کا زخم تلوار کے زخم سے بہت سخت ہوتا ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ کوئی ریچھ تھا، اس کا ایک آدمی سے دوستانہ تھا۔اس کی بیوی ہمیشہ اسے طعن کیا کرتی تھی کہ تو بھی کوئی آدمی ہے، تیرار کچھ سے دوستانہ ہے۔ایک دن اس کی دلآزار گفتگو اس قدر بڑھ گئی اور ایسی بلند آواز سے اس نے کہنا شروع کیا کہ ریچھ نے بھی سن لیا۔ریچھ نے تب ایک تلوار لی اور اپنے دوست سے کہا۔یہ تلوار میرے سر پر مار ( اس گفتگو کے متعلق حیرت نہیں ہونی چاہئے یہ صرف ایک کہانی ہے یہ بتانے کے لئے کہ کوئی آدمی ریچھ کی شکل کا ہوتا ہے اور کوئی انسان کی صورت کا) اس شخص نے بہتیرا انکار کیا۔مگر ریچھ نے کہا کہ ضرور میرے سر پر مار۔آخر اس نے تلوار اٹھائی اور ریچھ کے سر پر ماری۔وہ لہولہان ہو گیا اور جنگل کی طرف چلا گیا۔ایک سال کے بعد پھر اپنے دوست کے پاس آیا اور کہنے لگا، میرا سر دیکھ کہیں اس زخم کا نشان ہے؟ اس نے دیکھا تو کہیں زخم کا کوئی نشان دکھائی نہ دیا۔تب ریچھ نے کہا بعض جنگل میں کوٹیاں ہوتی ہیں۔میں نے علاج کیا اور زخم اچھا ہو گیا۔لیکن تیری بیوی کے قول کا زخم آج تک ہرا ہے۔تو بعض اوقات تلوار کے زخم سے زبان کا زخم بہت زیادہ شدید ہوتا ہے اور یہ تلوار ایسا زخم لگاتی ہے جو کبھی بھولنے میں نہیں آتا۔پس گولوہے کی تلوار چھین لی گئی لیکن چونکہ اخلاق درست نہ تھے اس لئے انہوں نے ایسی تلوار تلاش کی جو پر امن حکومت میں رہتے ہوئے مخالف پر چلا سکیں اور چونکہ لوہے کی تلوار ان سے لے لی گئی تھی اس لئے انہوں نے زبان کی تلوار چلانی شروع کر دی۔(خطبات محمود جلد 14 صفحہ 32-31 ) | کہانیاں سنانا، تعلیم کا بہترین ذریعہ بچپن کی حالت کے لئے جو لوازم مخصوص ہیں کوئی بچہ خواہ بڑا ہوکر نبی ہونے والا ہو وہ بھی اُن میں سے ضرور گزرے گا اور اس کی یہ حالت بعد کی زندگی میں اُس کے لئے کسی اعتراض کا موجب نہیں ہو سکتی۔پس اس عمر میں ورزش کے ذریعہ بچہ کی تربیت اشد ضروری ہے اور اسے کلی طور پر دماغی کام میں لگا دینا خطر ناک ہوتا ہے اس زمانہ میں اس کی صحیح تربیت کا طریق وہی