تذکار مہدی — Page 647
تذکار مهدی ) 647 روایات سید نامحمود ہے جو اسے کھیل کو دسکھائے پہلے تو جب وہ بہت چھوٹا ہو کہانیوں کے ذریعہ اس کی تربیت ضروری ہوتی ہے۔بڑے آدمی کے لئے تو خالی وعظ کافی ہوتا ہے۔لیکن بچپن میں دلچسپی قائم رکھنے کے لئے کہانیاں ضروری ہوتی ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ وہ کہانیاں جھوٹی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں کہانیاں سنایا کرتے تھے کبھی حضرت یوسٹ کا قصہ بیان فرماتے کبھی حضرت نوح کا قصہ سناتے اور کبھی حضرت موسیٰ کا واقعہ بیان فرماتے مگر ہمارے لئے وہ کہانیاں ہی ہوتی تھیں۔گو وہ تھے سچے واقعات ایک حاسد ومحسود کا قصہ الف لیلہ میں ہے وہ بھی سنایا کرتے تھے۔وہ سچا ہے یا جھوٹا بہر حال اس میں ایک مفید سبق ہے۔اسی طرح ہم نے کئی ضرب الامثال جو کہانیوں سے تعلق رکھتی ہیں آپ سے سنی ہیں پس بچپن میں تعلیم کا بہترین ذریعہ کہانیاں ہیں۔گو بعض کہانیاں بے معنی اور بے ہودہ ہوتی ہیں۔مگر مفید اخلاق سکھانے والی اور سبق آموز کہانیاں بھی ہیں اور جب بچہ کی عمر بہت چھوٹی ہو تو اس طریق پر اسے تعلیم دی جاتی ہے پھر جب وہ ذرا ترقی کرے تو اس کے لئے تعلیم و تربیت کی بہترین چیز کھیلیں ہیں کتابوں کے ساتھ جن چیزوں کا علم دیا جاتا ہے۔کھیلوں سے عملی طور پر وہی تعلیم دی جاتی ہے۔مگر کہانیوں کا زمانہ کھیل سے نیچے کا زمانہ ہے۔لیکن کوئی عقل مند کبھی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے بچوں کو کہانیاں سنانا یا کہانیاں بتانا کلی طور پر کسی جاہل کے سپر د کر دیا جائے یا بچوں ہی کے سپر د کر دیا جائے بلکہ اس کام پر ہر قوم کے بڑے بڑے ماہرین فن لگے رہتے ہیں دنیا کے بہترین مصنف جو لاکھوں روپے سالانہ کماتے ہیں وہ کہانیاں ہی لکھتے ہیں۔الفضل 28 / مارچ 1939 ء جلد 27 نمبر 71 صفحہ (2) حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچوں کو کہانیاں بھی سنایا کرتے تھے ورزش کے شعبہ کو مفید بلکہ مُفید ترین بنایا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس میں تین باتوں کا خیال رکھا جائے۔ایک تو یہ کہ وہ آئندہ زندگی میں بھی مفید ثابت ہونے والی ہوں نہ صرف بچپن میں بلکہ بڑے ہو کر بھی فائدہ دینے والی ہوں۔بچپن میں کھیل کا جو فائدہ ہوتا ہے وہ بھی حاصل ہو، جسم بھی مضبوط ہو اور ذہن بھی ترقی کرے۔بچپن میں جو کہانیاں بچوں کو سنائی جاتی ہیں۔ان کا مقصد ایک تو یہ ہوتا ہے۔کہ بچہ شور نہ کرے اور ماں باپ کا وقت ضائع نہ کرے۔