تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 645 of 862

تذکار مہدی — Page 645

645☀ تذکار مهدی ) روایات سید نا محمود کرنے کے لئے ہوتی ہیں اور ان سے مراد ایسے خصائل رکھنے والے انسان ہوتے ہیں۔مثلاً پرانی حکایتوں میں بادشاہ کے دربار کو شیر کا دربار اور اس کے امراء و وزارء کو دوسرے جانوروں کی صورت میں پیش کیا جاتا تھا اور اس طرح وہ بادشاہ بھی جس کے متعلق بات ہوتی نہایت مزے لے لے کر پڑھتا۔خیر تو ریچھ اس آدمی کا دوست تھا اور اس کے پاس آتا تھا۔ایک دن اس کی والدہ بیمار پڑی تھی اور وہ پاس بیٹھا پنکھا ہلا رہا اور مکھیاں اڑا رہا تھا۔اتفاقاً اسے کسی ضرورت کے لئے باہر جانا پڑا اور اس نے ریچھ کو اشارہ کیا کہ تم ذرا مکھیاں اڑاؤ میں باہر ہو آؤں ریچھ نے اخلاص سے یہ کام شروع تو کر دیا مگر انسان اور حیوان کے ہاتھ میں فرق ہوتا ہے اور حیوان ایسی آسانی سے ہاتھ نہیں ہلا سکتا جتنی آسانی سے انسان ہلا سکتا ہے۔وہ مکھی اڑائے لیکن وہ پھر آ بیٹھے پھر اڑائے پھر آ بیٹھے۔اس نے خیال کیا مکھی کا بار بار آ کر بیٹھنا میرے دوست کی ماں کی طبیعت پر بہت گراں گزرتا ہو گا۔چنانچہ اس کا علاج کرنے کے لئے اس نے ایک بڑا سا پتھر اٹھایا اور اسے دے مارا تا مکھی مر جائے۔لیکھی تو مر گئی مگر ساتھ ہی اس کے دوست کی ماں بھی کچلی گئی۔یہ ایک مثال ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بعض نادان کسی سے دوستی کرتے ہیں مگر دوستی کرنے کا ڈھنگ نہیں جانتے۔وہ بعض دفعہ خیر خواہی کرتے ہیں مگر ہوتی دراصل تباہی ہے۔اگر اپنے دوست کے بچے خیر خواہ ہوتے تو بے ایمانی کی طرف نہ لے جاتے بلکہ اگر اسے اس طرف مائل بھی دیکھتے تو اسے روکتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوستی کا نقشہ کیا خوب کھینچا ہے۔فرمایا اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ کیا بات ہے کیا ہم ظالم کی مدد بھی کیا کریں۔آپ نے فرمایا جب تو ظالم کا ہاتھ ظلم سے روکے تو تو اس کی مدد کرتا ہے۔گویا فرمایا اصل مدد کے معنی یہ نہیں کہ کسی کی منشاء کے مطابق چلتے جاؤ بلکہ یہ ہیں کہ اس کے فائدہ کے لئے اس کے خلاف بھی چلنا پڑے تو چلو اور بجائے اس کے کہ اس کے ساتھ مل کر ظلم کروا سے بھی اس سے روکو اگر تم ایسا نہیں کرتے تو اسے تباہ کرتے ہو۔پس صحیح دوستی وہی ہے جو سمجھ اور عقل سے ہو۔(خطبات محمود جلد 13 صفحہ 205-204) تلوار کے زخم سے زبان کا زخم بہت زیادہ شدید ہوتا ہے تم تجربہ کر کے دیکھ لو گندے اخلاق کے آدمی کو ذرا دق کرو، فوراً گالیاں دینا شروع کر دے گا۔لیکن اگر وہ تلوار چلانے والا ہوگا تو گالیاں نہیں دے گا بلکہ لڑنے لگ جائے گا اسی لئے جو