تذکار مہدی — Page 630
تذکار مهدی ) 630 روایات سید نا محمود نے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے کہا میں شیطان ہوں جو تمہیں نماز کے لئے اٹھانے آیا ہوں۔انہوں نے کہا تجھے نماز کے لئے اٹھانے سے کیا تعلق؟ یہ بات کیا ہے؟ اس نے کہا کل جو میں نے تمہیں سوتے رہنے کی تحریک کی اور تم سوتے رہے اور نماز نہ پڑھ سکے اس پر تم سارا دن روتے رہے خدا نے کہا اسے نماز باجماعت پڑھنے سے کئی گنا بڑھ کر ثواب دے دو۔مجھے اس بات کا صدمہ ہوا کہ نماز سے محروم رکھنے پر تمہیں اور زیادہ ثواب مل گیا۔آج میں اس لئے جگانے آیا ہوں کہ آج بھی کہیں تم زیادہ ثواب نہ حاصل کر لو۔تو شیطان تب پیچھا چھوڑتا ہے جب کہ انسان اس کی بات کا توڑ کرتا رہے۔اس سے وہ مایوس ہو جاتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ملائکۃ اللہ ، انوار العلوم جلد 5 صفحہ 552) محبت سے ایمان بڑھتا ہے حضرت موسیٰ کے قصہ میں اس کی مثال موجود ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس قصہ کو بار ہا بیان فرمایا کرتے تھے۔کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ جب مصر سے نکلے تو راستہ میں عمالیق سے مقابلہ آن پڑا۔ان کے بادشاہ کو خطرہ ہوا کہ ہم شکست کھا جائیں گے ان کے ہاں ایک بزرگ تھا۔بادشاہ نے اس سے دعا کی درخواست کی۔اس نے دعا کی تو خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ موسیٰ خدا کا نبی ہے۔اس کے خلاف دعا نہیں کرنی چاہئیے۔اس نے بادشاہ کو کہہ دیا کہ موسیٰ کے خلاف دعا نہیں ہو سکتی جب بادشاہ کو معلوم ہوا کہ میری کوئی بات کارگر نہیں ہوتی۔تو اس نے وہی چال چلی۔جو آدم کو جنت سے نکلوانے کے لئے شیطان نے چلی تھی کہ حوا کے ذریعہ پھسلایا تھا۔اسی طرح اس نے بہت سے زیورات وغیرہ تیار کرائے اور موسیٰ کے برخلاف دعا کرانے کے لئے اس بزرگ کی بیوی کو دیئے۔اس نے تحریک کی مگر اس بزرگ نے جواب دیا کہ موسیٰ خدا کا مقرب ہے اس لئے اس کے خلاف بددعا نہیں ہوسکتی۔میں نے کی تھی۔مگر وہاں سے جواب مل گیا، لیکن وہ مصر ہوئی اور کہا کہ کیا ضرور ہے کہ اب بھی وہی حالات ہوں۔تم بددعا تو کرو۔آخر وہ رضا مند ہو گیا۔اس کو ایک جگہ لے گئے اس نے کہا کہ یہاں سینہ نہیں کھلتا اور اسی طرح دو تین جگہ گیا۔آخر چونکہ اس کا ایمان جانا تھا۔اس نے بددعا کی۔کہتے ہیں کہ جونہی اس نے بددعا کی۔موسیٰ کی قوم میں تباہی پڑ گئی۔کیونکہ اس کے پہلے ایمان کا کچھ تو اثر ہونا تھا اور ادھر اس کا ایمان کبوتر کی شکل میں اڑ گیا۔بیشک یہ ایک قصہ ہے مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ