تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 626 of 862

تذکار مہدی — Page 626

تذکار مهدی ) بندہ کا خدا تعالے پر کوئی حق نہیں 626 روایات سید نا محمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ کسی شخص کا بیٹا مر گیا اور اُس کا ایک دوست تعزیت کے لئے اُس کے پاس گیا تو وہ چیخ مار کر رو پڑا اور کہنے لگا خدا نے مجھ پر بڑا بھاری ظلم کیا ہے گویا نعوذ باللہ اُس کا کوئی حق خدا تعالیٰ نے مارلیا تھا جس کا اُسے شکوہ پیدا ہوا۔مگر سوچنا چاہئے کہ وہ کون ساحق ہے جو بندہ نے خدا تعالیٰ پر قائم کیا ہے۔مجھے ہمیشہ تعجب آتا ہے کہ وہ لوگ جو اپنی نماز اور روزہ اور زکوۃ اور حج اور تقوی وطہارت پر فخر کیا کرتے ہیں وہ تو کسی تکلیف کے موقعہ پر چلا اٹھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہم پر ظلم کیا لیکن ہندوستان کا وہ مشہور شاعر جو دین سے بالکل نا واقف تھا ایک سچائی کی گھڑی میں باوجود شراب کا عادی ہونے کے کہہ اٹھا کہ جان دی دی ہوئی اُسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا غور کرنا چاہئے کہ جو چیز بھی انسان کے پاس سے جاتی ہے۔وہ آتی کہاں سے تھی؟ ذرا اپنی حیثیت کوتو دیکھو وہ کونسی چیز ہے جسے اپنی کہہ سکتے ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کا ابتدائی زمانہ ( تفسیر کبیر جلد ششم صفحه 599) اے میرے عزیزو! آپ کی زندگی کا پہلا دور ختم ہوتا ہے اور نیا دور شروع کرنے کا وقت آ گیا ہے۔پہلے دور کی مثال ایسی تھی جیسے چٹان پر ایک لیمپ روشن کیا جاتا ہے تا کہ وہ قریب آنے والے جہازوں کو ہوشیار کرتا رہے اور تباہی سے بچائے لیکن نئے دور کی مثال اس سورج کی سی ہے جس کے گرد دنیا گھومتی ہے اور جو باری باری ساری دنیا کو روشن کرتا ہے۔بیشک آپ کی تعداد قادیان میں تین سو تیرہ ہے لیکن آپ اس بات کو نہیں بھولے ہوں گے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قادیان میں خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے کام کو شروع فرمایا تو اس وقت قادیان میں احمدیوں کی تعداد صرف دو تین تھی۔تین سو آدمی یقیناً تین سے زیادہ ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کے وقت قادیان میں آبادی گیارہ سو تھی۔گیارہ سو