تذکار مہدی — Page 625
تذکار مهدی ) 625 روایات سید نامحمود کتاب کا معیار لوگوں کی نظروں میں کم ہو جاتا ہے۔بہر حال ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ اپنے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کرے اور نہ صرف وہ خوبیاں حاصل کرے جو انگریزوں میں پائی جاتی ہیں بلکہ اُن سے بھی بہتر خوبیاں اپنے اندر پیدا کرے تا کہ ہماری جماعت کا معیار بلند ہو اور لوگوں پر ہمارا رعب قائم ہو۔( مسلمانوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 227 تا 230 ) | حضرت میر عنایت علی صاحب کی طبیعت نرم تھی فاطمہ بیگم صاحبہ اہلیہ میر عنایت علی صاحب لدھیانوی حیدر آباد سندھ میں وفات پا گئی ہیں۔حیدر آباد اور کوٹری کے بہت تھوڑے احمدی احباب جنازہ میں شامل ہوئے۔مرحومہ نہایت مخلص خاتون تھیں۔کہتے ہیں کہ انہوں نے 1900 ء میں بیعت کی لیکن در حقیقت ان کا تعلق احمدیت سے بہت پرانا تھا۔ان کے خاوند میر عنایت علی صاحب لدھیانوی اُن چالیس آدمیوں میں سے تھے جنہوں نے لدھیانہ کے مقام پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پہلے دن بیعت کی۔ان کی بیوی بھی درحقیقت اُسی دن سے احمدیت سے تعلق رکھتی تھیں۔ان کی طبیعت تیز تھی میر عنایت علی صاحب کی طبیعت نرم تھی۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی صحابہ میں سے تھے، بہت دعائیں کرنے والے اور مستجاب الدعوات تھے۔میاں بیوی کا اختلاف ہو جاتا تھا تو اکثر میر صاحب کو ایک طعنہ دیتی تھیں جو نہایت پُر لطف ہے۔بات یہ ہوئی کہ بیعت کرنے والوں کی ترتیب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مقرر فرمائی تھی اُس کے لحاظ سے میر صاحب کی بیعت غالباً ساتویں نمبر پر تھی لیکن میر صاحب اپنے ایک رشتہ دار یا دوست خواجہ علی صاحب کو جو پرانے بزرگوں میں سے ایک ہیں بلانے چلے گئے۔انہیں ڈھونڈنے میں دیر لگ گئی۔اس وجہ سے اُن کی بیعت بجائے ساتویں نمبر کے غالباً 37 ویں نمبر پر ہوئی۔تو جب بھی میاں بیوی کی لڑائی ہوتی بیوی خاوند کو ہمیشہ یہ طعنہ دیتی تھیں کہ تمہاری حیثیت تو یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کے لئے تمہیں ساتواں نمبر ملا تھا لیکن تم اپنی بیوقوفی کی وجہ سے 37 ویں نمبر پر پہنچے۔پس مرحومہ در حقیقت پرانا تعلق رکھنے والی خاتون تھیں ظاہری بیعت گودیر سے کی ہو۔خطبات محمود جلد 33 صفحہ 277-275)