تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 615 of 862

تذکار مہدی — Page 615

تذکار مهدی ) 615 روایات سید نا محمود طبیب مل جاتا ہے۔جو اسے کہتا ہے کہ یہ دوائی لے جا کر اپنے بیٹے کو کھلا دو۔وہ ایک منٹ میں تندرست ہو جائے گا۔فکر کیوں کرتے ہو۔وہ بھی ایک بوجھ اٹھا کر گھر کو لوٹتا ہے۔مگر اس کے بوجھ اٹھانے اور مزدور کے بوجھ اٹھانے میں فرق ہے۔مزدور تو سمجھتا ہے کہ میں نے یہ بوجھ فلاں جگہ پہنچانا ہے اور اس کے عوض دو آنے لینے ہیں اور بوجھ اس کی کمر کو توڑ رہا ہوتا ہے۔مگر دوسرا سمجھتا ہے میں بوجھ نہیں بلکہ اپنے لڑکے کی زندگی اٹھائے لئے جا رہا ہوں۔یہی حالت مومن کی ہوتی ہے جب وہ روزہ رکھتا ہے۔تو یہ نہیں سمجھتا کہ میں بھوکا رہ رہا ہوں۔بلکہ اس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوتی ہے۔دل میں جوش اور امنگ پیدا ہوتی ہے اور امیدیں وسیع ہوتی ہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ شائد آج کا روزہ ہی اس پردہ کو اٹھا دے جو میرے اور میرے خدا کے درمیان ہے اور جس کے اٹھنے کے بعد میرا خدا مجھے مل جائے۔ہو سکتا ہے کہ وہ شام کو مایوس ہی ہو جائے مگر دوسرے دن پھر وہ اسی شوق سے اٹھتا ہے اور پھر اسی جوش اور شوق کے ساتھ روزہ رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ مومن کی مثال کیمیا گر کی ہوتی ہے۔کیمیا گر بھی بار بار سونا بنانے کی کوشش کرتا ہے اور جب نہیں بنتا تو سمجھتا ہے۔کہ میری غلطی سے نہیں بن سکا۔آنچ کی کسر رہ گئی اور مجھ سے غلطی ہو گئی اور وہ پھر کوشش کرتا ہے اور پھر ناکام رہنے کے باوجود پھر کرتا ہے۔اسی طرح مومن نماز پڑھتا ہے کہ اس کا خدا اسے مل جائے۔مگر جب نہیں ملتا تو وہ مایوس ہو کر چھوڑ نہیں دیتا بلکہ پھر پڑھتا ہے۔(الفضل 6 اکتوبر 1942 ء جلد 30 نمبر 233 صفحہ 4 | حضرت منشی اروڑے خان صاحب کے اخلاص و قربانی کی مثال مجھے وہ نظارہ نہیں بھولتا اور نہیں بھول سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ ایک دن باہر سے مجھے کسی نے آواز دے کر بلوایا اور خادمہ یا کسی بچے نے بتایا کہ دروازہ پر ایک آدمی کھڑا ہے اور وہ آپ کو بلا رہا ہے میں باہر نکلا تو منشی اروڑے خان صاحب مرحوم کھڑے تھے۔وہ بڑے تپاک سے آگے بڑھے مجھ سے مصافحہ کیا اور اس کے بعد انہوں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا۔جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے اپنی جیب سے دو یا تین پونڈ نکالے اور مجھے کہا کہ یہ اماں جان کو دے دیں اور یہ کہتے ہی ان پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ وہ چینیں مار کر رونے لگ گئے اور ان کے رونے کی حالت اس قسم کی تھی کہ