تذکار مہدی — Page 616
تذکار مهدی ) 616 روایات سید نامحمود یوں معلوم ہوتا تھا۔جیسے بکرے کو ذبح کیا جا رہا ہے۔میں کچھ حیران سا رہ گیا کہ رو کیوں رہے ہیں مگر میں خاموش کھڑا رہا اور انتظار کرتا رہا کہ وہ خاموش ہوں تو ان سے رونے کی وجہ دریافت کروں۔اسی طرح وہ کئی منٹ تک روتے رہے منشی اروڑے خان صاحب مرحوم نے بہت ہی معمولی ملازمت سے ترقی کی تھی پہلے کچہری میں وہ چپڑاسی کا کام کرتے تھے۔پھر اہلمد کا عہدہ آپ کو مل گیا۔اس کے بعد نقشہ نویس ہو گئے۔پھر اور ترقی کی تو سر رشتہ دار ہو گئے اس کے بعد ترقی پاکر نائب تحصیلدار ہو گئے اور پھر تحصیلدار بن کر ریٹائر ہوئے۔ابتداء میں ان کی تنخواہ دس پندرہ روپے سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔جب ان کو ذرا صبر آیا تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ روئے کیوں ہیں۔وہ کہنے لگے میں غریب آدمی تھا مگر جب بھی مجھے چھٹی ملتی میں قادیان آنے کے لئے چل پڑتا تھا۔سفر کا بہت سا حصہ پیدل ہی طے کرتا تھا۔تا کہ خدمت کے لئے کچھ پیسے بچ جائیں مگر پھر بھی روپیہ ڈیڑھ روپیہ خرچ ہو جاتا۔یہاں آکر جب امراء کو دیکھتا کہ وہ سلسلہ کی خدمت کے لئے بڑا روپیہ خرچ کر رہے ہیں تو میرے دل میں خیال آتا کہ کاش! میرے پاس بھی روپیہ ہو اور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں بجائے چاندی کا تحفہ لانے کے سونے کا تحفہ پیش کروں۔آخر میری تنخواہ کچھ زیادہ ہو گئی (اس وقت ان کی تنخواہ شائد میں پچیس روپیہ تک پہنچ گئی تھی اور میں نے ہر مہینے کچھ رقم جمع کرنی شروع کر دی اور میں نے اپنے دل میں یہ نیت کی کہ جب یہ رقم اس مقدار تک پہنچ جائے گی جو میں چاہتا ہوں۔تو میں اسے پونڈوں کی صورت میں تبدیل کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کروں گا۔پھر کہنے لگے۔جب میرے پاس ایک پونڈ کے برابر رقم جمع ہوگئی۔تو وہ رقم دے کر میں نے ایک پونڈ لے لیا۔پھر دوسرے پونڈ کے لئے رقم جمع کرنی شروع کر دی اور جب کچھ عرصہ کے بعد اس کے لئے رقم جمع ہو گئی۔تو دوسرا پونڈ لے لیا۔اس طرح میں آہستہ آہستہ کچھ رقم جمع کر کے انہیں پونڈوں کی صورت میں جمع کرتا رہا۔اور میرا منشاء یہ تھا۔کہ میں یہ پونڈ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کروں گا۔مگر جب میرے دل کی آرزو پوری ہو گئی اور پونڈ میرے پاس جمع ہو گئے تو یہاں تک وہ پہنچے تھے کہ پھر ان پر رقت کی حالت طاری ہو گئی اور وہ رونے لگ گئے۔آخر روتے روتے انہوں نے اس فقرہ کو اس طرح پورا کیا کہ جب پونڈ میرے پاس جمع ہو گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوگئی۔یہ اخلاص کا کیسا شاندار نمونہ ہے کہ ایک شخص چندے بھی دیتا ہے۔قربانیاں بھی کرتا ہے۔مہینے میں ایک دفعہ نہیں بلکہ