تذکار مہدی — Page 572
تذکار مهدی ) 6572 روایات سید نا محمود کا ادب نہیں۔( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں آپ کو لوگ عام طور پر مولوی صاحب یا بڑے مولوی صاحب کہا کرتے تھے ) میں نے خود کئی دفعہ یہ اعتراض لوگوں کے منہ سے سنا ہے۔اور حضرت مولوی صاحب کو اس کا جواب دیتے ہوئے بھی سنا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ اسی مسجد میں حضرت خلیفہ اول جبکہ درس دے رہے تھے۔آپ نے فرمایا بعض لوگ مجھ پر اعتراض کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ادب نہیں کرتا۔حالانکہ میں محبت اور پیار کی شدت کے وقت یہ الفاظ ادا کرتا ہوں۔تو ظاہری الفاظ کو نہیں دیکھنا چاہئے۔بلکہ ان الفاظ کے اندر حقیقت جو خفی ہو اس کو دیکھنا چاہئے۔جیسے میں نے بتایا ہے بعض الفاظ معمولی ہوتے ہیں مگر ان میں پیار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہوتا ہے اور بعض الفاظ اچھے ہوتے ہیں مگر ان کا مضمون نہایت برا ہوتا ہے ہمارے ملک میں عام طور پر جب کسی کو بیوقوف کہنا ہو تو اسے بادشاہ کہے دیتے ہیں اور باتیں کرتے ہوئے اس سے کہتے ہیں۔”بادشا ہواے کی کہندے ہو۔یعنی تمہاری باتیں احمقوں کی سی ہیں۔حضرت خلیفہ اول کا اخلاص ( الفضل 30 جون 1938 ء جلد 26 نمبر 147 صفحہ 3) مجھے یاد ہے کہ ہم ابھی بچے ہی تھے تھوڑی آبادی کے گاؤں میں عموماً مزدور وغیرہ نہیں ملتے۔شہروں میں مل جاتے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لوگوں نے اپنے اپنے کاموں کے لئے کام رکھے ہوئے ہوتے ہیں مگر یہ نہیں ہوتا کہ کسی وقت مزدور کی ضرورت ہو اور وہ مل جائے ابتدائی زمانہ میں چونکہ قادیان کی آبادی بہت کم تھی اس لئے قادیان میں بھی اس وقت یہی طریق رائج تھا۔جب کوئی ایسا کام پڑ جاتا تھا جو گھر والوں سے نہیں ہوسکتا تھا تو اور لوگ آ جاتے اور وہ کام کر دیتے کسی گھر میں اگر دو تین مہمان آجائیں تو ایک کھلبلی سی مچ جاتی ہے مگر وہاں تو ساٹھ ستر کے قریب مہمان رہتے تھے ان کی خدمت کے لئے مختلف سامانوں کی ضرورت ہوتی تھی۔کھانا پکوانے کی ضرورت ہوتی تھی۔سودا وغیرہ لانے کی ضرورت ہوتی تھی اور یہ ظاہر ہے کہ یہ کام صرف ہمارے خاندان کے افراد نہیں کر سکتے تھے۔اکثر یہی ہوا کرتا تھا کہ جماعت کے افراد مل ملا کر وہ کام کر دیا کرتے تھے۔اس وقت طریق یہ تھا کہ اگر ایندھن آجاتا اور وہ اندر