تذکار مہدی — Page 573
تذکار مهدی ) 573 نامحمودی روایات سیّد نا محمود ڈالنا ہوتا تو گھر کی خادمہ آواز دے دیتی کہ ایندھن آیا ہے۔کوئی آدمی ہے تو وہ آجائے اور ایندھن اندر ڈال دے۔پانچ سات آدمی جو حاضر ہوتے وہ آ جاتے اور ایندھن اندر ڈال دیتے۔دو تین دفعہ ایسا ہوا کہ کام کے لئے باہر خادمہ نے آواز دی مگر کوئی آدمی نہ آیا۔ایک دفعہ لنگر خانہ کے لئے اپلوں کا ایک گڈا آیا۔بادل بھی آیا ہوا تھا۔خادمہ نے آواز دی تا کوئی آدمی مل جائے تو وہ اپلوں کو اندر رکھوا دے مگر اس کی آواز کی طرف کسی نے توجہ نہ کی۔میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول اس وقت مسجد اقصے سے قرآن کریم کا درس دے کر واپس تشریف لا رہے تھے۔آپ اس وقت خلیفہ نہیں تھے۔مگر علم دینیات ، تقویٰ اور طب کی وجہ سے آپ کو جماعت میں ایک خاص پوزیشن حاصل تھی اور لوگوں پر آپ کا بہت اثر تھا۔آپ درس سے فارغ ہو کر گھر جارہے تھے کہ خادمہ نے آواز دی اور کہا کہ کوئی آدمی ہے تو آجائے بارش ہونے والی ہے۔ذرا اپلے اٹھا کر اندر ڈال دے۔لیکن کسی نے توجہ نہ کی۔آپ نے جب دیکھا کہ خادمہ کی آواز کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی۔تو آپ نے فرمایا اچھا آج ہم ہی آدمی بن جاتے ہیں۔یہ کہہ کر آپ نے اپلے اٹھائے اور اندر ڈالنے شروع کر دیئے۔ظاہر ہے کہ جب شاگرد استاد کو اہلے اٹھاتے دیکھے گا تو وہ بھی وہی کام شروع کر دے گا۔چنانچہ اور لوگ بھی آپ کا ساتھ کام کرنے لگ گئے اور اپلے اندر ڈال دیئے۔مجھے یاد ہے میں نے دو تین مختلف مواقع پر آپ کو ایسا کرتے دیکھا اور جب بھی آپ اپلے اٹھانے لگتے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ مل جاتے۔قصابوں کو میدان جنگ میں بھیجوانا ( الفضل 19 دسمبر 1948 ء جلد 2 نمبر 268 صفحہ 4-3 ) | مثلاً زخم پر پٹی باندھنا ہے۔بظاہر انسان سمجھتا ہے کہ یہ معمولی بات ہے۔حالانکہ یہ کام بھی بغیر مشق کے نہیں آ سکتا میرے گھٹنے میں ایک دفعہ درد ہوا۔ڈاکٹر صاحب پٹی باندھ کر جائیں تو وہ دو دو دن تک بندھی رہے لیکن ایک دن پٹی میں نے خود باندھ لی اُس دن باہر نماز پڑھانے کے لئے جو گیا تو میں نے دیکھا کہ پٹی میرے پاؤں میں پڑی ہوئی ہے یا مثلاً دبانا ہے لوگ اسے معمولی کام سمجھتے ہیں حالانکہ یہ کام بھی بغیر مشق کے نہیں آ سکتا۔۔اب تو پہرے والے کسی کو آگے آنے نہیں دیتے لیکن اس سے پہلے دبانے کی مشق ہمیشہ مجھ پر ہوا کرتی تھی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو میں نے دیکھا ہے