تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 862

تذکار مہدی — Page 571

احمدی 571 تذکار مهدی ) کارمهدی روایات سیّد نا محمود آتا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی نظر سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہوسکتی۔چنانچہ اس کیلئے میں پھر حضرت لقمان والی مثال دیتا ہوں۔حضرت لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں يُبْنَى إِنَّهَا إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ في السَّمَوتِ اَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللهُہ کہ اے میرے بیٹے! اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی کوئی چیز ہو اور وہ کسی پتھر میں پوشیدہ ہو یا آسمانوں اور زمین میں ہو تو اللہ تعالیٰ اُس کو نکال کر لے آئے گا۔اس کے معنے یہی ہیں کہ اگر تمہارے دل میں ایمان ہو تو خدا تعالیٰ تمہیں خود اس کام پر مقرر کرے جس کے تم اہل ہو۔تمہیں خود کسی عہدہ کی خواہش نہیں کرنی چاہئے۔تو وہ لوگ جو خدمت خلق کو اپنا مقصود قرار دیتے ہیں وہی ہر قسم کی عزت کے مستحق ہیں۔پھر اگر خدا تعالیٰ تمہیں خود مخدوم بنانا چاہے تو ساری دنیا مل کر بھی اس میں روک نہیں بن سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو خدا تعالیٰ کے مسیح اور مامور تھے اور پھر ایسے مامور تھے جن کی تمام انبیاء نے خبر دی۔اُن کا ذکر تو بڑی بات ہے۔میں اپنے متعلق ہی شروع سے دیکھتا ہوں کہ مخالفتیں ہوتی ہیں اور اتنی شدید ہوتی ہیں کہ ہر دفعہ لوگ یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ اب کی دفعہ یہ مخالفانہ ہوائیں سب کچھ اُڑا کر لے جائیں گی مگر پھر وہ اس طرح بیٹھ جاتی ہیں جس طرح جھاگ بیٹھ جاتی ہے۔تو جس کو اللہ تعالی قائم کرنا چاہے اُس کو کوئی مٹا نہیں سکتا۔حضرت خلیفہ اول کا آپ سے عشق خطبات محمود جلد 19 صفحہ 205-204 ) | حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت تھی کہ جب آپ بہت جوش اور محبت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر کرتے تو ”مرزا“ کا لفظ استعمال کیا کرتے اور فرماتے۔ہمارے مرزا کی یہ بات ہے۔ابتدائی ایام سے جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ابھی دعویٰ نہیں تھا۔چونکہ آپ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے تعلقات تھے۔اس لئے اس وقت سے یہ لفظ آپ کی زبان پر چڑھے ہوئے تھے۔کئی نادان اس وقت اعتراض کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ حضرت مولوی صاحب کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام