تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 862

تذکار مہدی — Page 515

تذکار مهدی ) 515 روایات سید نا محمود جد و جہد ، وہ تمام کوشش وہ تمام قربانی کرتہ نہیں کر رہا تھا۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود کر رہے تھے۔وہ رات دن کی کوفت جو مختلف علمی کتب لکھنے سے آپ کو ہوتی۔وہ مخفی علوم جو آپ دنیا پر ظاہر کر رہے تھے۔وہ چھپے ہوئے خزانے جن کو آپ زمین سے باہر نکال رہے تھے۔وہ دولتیں جن پر لوگوں کے بخل کی وجہ سے زنگ لگ گیا تھا اور وہ سکے جن پر اس قدر میل جم چکی تھی کہ وہ پہچانے تک نہیں جاتے تھے۔ان کو صاف کرنے اور دنیا میں پھیلانے اور لوگوں کے گھروں میں وہ مال و دولت پہنچانے اور ان کی روحانی غربت و افلاس کو دور کرنے اور انہیں ایمان کی دولت سے مالا مال کرنے کا کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کر رہے تھے۔آپ کا کرتہ یا پاجامہ یہ کام نہیں کر رہا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔گویا جس نے یہ کام کیا اُس کے جسم کے ساتھ لگا ہوا گر نہ، اُس کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹا ہوا پا جامہ اُسی کے سر پر رکھا ہوا عمامہ اس کی جیب میں پڑا ہوا رو مال اور اس کے پاؤں میں بڑی ہوئی جوتی بھی برکت والی ہوگی کیونکہ جس شخص سے خدا نے کام لیا یہ چیزیں اُس کے ساتھ ملی ہوئی تھیں۔پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم اس کام کے مستحق ہیں۔ہم اس کام کے اہل ہیں، ہم میں وہ خوبیاں نہیں جو اعلیٰ جماعتوں میں پائی جانی چاہئیں مگر چونکہ خدا نے ہمیں ایک درجہ دے دیا ہے۔اس لئے اس کام کے ہونے کی وجہ سے ہمیں وہ برکات ملنی ضروری ہیں جو برکات ایسے کاموں سے وابستہ ہوتی ہیں لیکن بہر حال ہمارے لئے ان برکات کے حصول کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وابستہ ہونا ضروری ہے۔دیکھو وہی کرتہ برکت پا گیا۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جسم سے جا ملا۔اسی پاجامہ نے برکت حاصل کی جو آپ کی ٹانگوں میں لپٹا رہا۔اسی پگڑی نے برکت حاصل کی جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہنا۔وہی گلا ء عزت کا مستحق ہوا جو آپ کے سر پر رہا۔اس ٹوپی نے عزت حاصل کی جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے سر پر رکھا۔وہی رومال برکت حاصل کر گیا جو آپ کی جیب میں پڑا رہا اور وہی جوتی برکت والی قرار پائی جو آپ کے پاؤں میں رہی۔پس برکت حاصل کرنے کے لئے کم سے کم اتنا لگاؤ کا ہونا تو ہمارے لئے ضروری ہے، جس طرح کر تہ آپ کے جسم سے چمٹا رہا ، جس طرح پاجامہ آپ کی ٹانگوں سے لپٹا رہا ، جس طرح رومال آپ کی جیب میں پڑا رہا، جس طرح عمامہ آپ کے سر پر دھرا رہا ، جس طرح جوتی آپ کے پاؤں میں پڑی رہی۔اسی طرح ہمارا فرض ہے کہ اگر ہم الہی برکات حاصل کرنا چاہتے