تذکار مہدی — Page 514
تذکار مهدی ) 514 روایات سید نا محمود تَرَى نَسُلًا بَعِيدًا کے یہی معنی ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے که تیری نسل تجھے کبھی اپنی آنکھوں سے اوجھل نہیں کرے گی اور تیری نسل کبھی اپنے دادا کو ( خطبات محمود جلد سوم صفحہ 606 تا 607) بھلانے کی کوشش نہیں کرے گی۔بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اللہ تعالیٰ اپنے آخری موعود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں دنیا کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ لو بغیر جماعت کی خاص کے قربانیوں کے اور بغیر ترقی کے خاص سامانوں کے ہم اپنی طاقت اور قدرت سے ہی کام کر کے دکھا دیتے ہیں لیکن بہر حال خواہ جماعت کی قربانیوں کے بغیر یہ کام ہو۔چونکہ یہ کام ہمارے ہاتھوں سے ہوگا اس لئے ہمیں عزت ضرور مل جائے گی اور مفت میں ہمیں ثواب ہو جائے گا یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ایک تنکے سے خدا تعالیٰ کشتیوں کا کام لے لے۔بے شک ایک تنکا اپنی ذات میں کچھ حقیقت نہیں رکھتا لیکن جس تنکے میں خدا تعالیٰ یہ طاقت پیدا کر دے گا کہ وہ سہارا دے کر لوگوں کو دریا سے گزار دے اُس میں بھی ایک خوبی پیدا ہو جاتی ہے۔اس میں بھی ایک برکت پیدا ہو جاتی ہے اگر وہ تنکا دنیا میں محفوظ ہو تو یقیناً ہزاروں میل سے لوگ اس کی زیارت کرنے کے لئے آئیں اسی طرح ہمارے ہاتھ سے اگر یہ کام ہو جائے تو ہماری مثال گو ایک تنکے کی سی ہوگی۔لیکن چونکہ خدا کا کام ہمارے ہاتھ سے ہوا ہو گا۔اس لئے ہمارا وجود خدا تعالیٰ کی کرامت اور اس کی قدرت اور اس کی رحمت کا ایک مورد اور ذریعہ ہونے کی وجہ سے دنیا میں ایک نشان بن جائے گا۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ کرتہ ایک نشان تھا۔جس پر سُرخی کے چھینٹے پڑے اور جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وہ بقیہ کپڑے نشان ہیں۔جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔یہ صاف ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کر نہ قربانی نہیں کر رہا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پاجامہ قربانی نہیں کر رہا تھا بلکہ قربانی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کر رہے تھے۔وہ سوز و گداز سے بھری ہوئی دعائیں جو عرش سے ٹکرا رہی تھیں۔وہ خدا کے نام کی اشاعت اور اس کی بلندی کے لئے دن رات کی کوششیں جو دنیا میں ہو رہی تھیں۔وہ محمد صلے اللہ علیہ وسلم کے انوار کو پھیلانے اور آپ ﷺ کی عظمت سے دنیا کو روشناس کرانے کے لئے جدو جہد جو اس عالم میں جاری تھی۔وہ تمام