تذکار مہدی — Page 493
تذکار مهدی ) کارمهدی 493 روایات سید نامحمودی سیر کو تو چلے جاتے تھے مگر مسجد میں نہ آ سکتے تھے۔وجہ یہ کہ دل کی کمزوری کی وجہ سے دل کا دورہ ہو جاتا تھا۔اس بیماری والا آدمی چل پھر تو سکتا ہے مگر مجمع میں بیٹھ نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ دل کی کمزوری کثرت کار کی وجہ سے تھی۔اب بظاہر دیکھنے والا کہے گا کہ بیماری کا محض بہانہ ہے لیکن اگر اس قسم کی بیماری اسے ہو تو خود بیٹھ کر بھی نہیں بلکہ لیٹ کر نماز پڑھے گا۔پس ایسی حالتیں ہوتی ہیں لیکن اگر کوئی بہانہ بناتا ہے تو یہ چالیس سال کی عمر کا بھی بنا سکتا ہے نوجوانی کی شرط نہیں ہے۔(خطبات محمود جلد 11 صفحہ 329) نماز با جماعت کے قیام کے لئے کوششیں کیا آپ لوگوں نے بھی یہ خیال کیا ہے کہ آپ میں سے اکثر بلکہ سوائے پانچ دس کے باقی سب کے سب نماز روزہ اور دیگر احکام شریعت سے بالکل غافل ہیں اور آپ کی مساجد بالکل ویران پڑی رہتی ہیں اور کبھی پانچ دس نماز پڑھنے والے ہوتے ہیں بلکہ بہتوں سے لوگ دریافت کیا جاوے تو وہ مسائل طہارت اور صفائی سے بھی واقف نہ ہوں گے ابھی اس بات کے دیکھنے والے لوگ زندہ موجود ہیں۔کہ حضرت مرزا صاحب مسیح موعود نے سلسلہ احمدیہ کے قیام سے پہلے یہاں کے لوگوں کی حالت دیکھ کر کہ وہ نماز کی طرف توجہ نہیں کرتے خود آدمی بھیج بھیج کر ان کو مسجد میں بلوانا شروع کیا تو ان لوگوں نے یہ عذر کیا کہ نمازیں پڑھنا امراء کا کام ہے۔ہم غریب لوگ کمائیں یا نمازیں پڑھیں تو آپ نے یہ انتظام کیا کہ ایک وقت کا کھانا ان لوگوں کو دیا جاوے۔چنانچہ چند دن کھانے کی خاطر چھپیں ، ہمیں آدمی آتے رہے مگر آخر میں سُست ہو گئے اور صرف مغرب کے وقت کہ جس وقت کھانا تقسیم ہوتا تھا آجاتے جس پر آخر یہ سلسلہ بند کرنا پڑا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شوق دینی کو دیکھ کر خدا تعالیٰ نے تو ان کی مراد پوری کر دی۔اس وقت ہماری جماعت کے پاس قادیان میں چار مساجد ہیں۔جن میں سے دو نہایت عالی شان ہیں اور چاروں ہی پانچوں وقت نمازیوں سے پُر رہتی ہیں۔مگر آپ لوگ بھی ویسے کے ویسے ہی ہیں یہی حال روزوں کا ہے۔زکوۃ دینے والا تو شائد آپ لوگوں میں سے ایک بھی نہ ہوگا۔( قادیان کے غیر از جماعت احباب کے نام پیغام، انوار العلوم جلد چہارم صفحہ 76-75)