تذکار مہدی — Page 492
تذکار مهدی ) کارمهدی 492 روایات سید نا محمودی ہمارے کانوں میں تسبیح کی آواز نہیں آتی۔میں اس کے لئے تمہیں بتاتا ہوں کہ کئی آوازیں کان سے نہیں بلکہ اندر سے آتی ہیں۔ایک پیچ سالن اور روٹی خطبات محمود جلد 16 صفحہ 149 ، 150 ) | اگر ضرورت کے مطابق کھانا پکایا جائے تو بہت کچھ کفایت ہوسکتی ہے۔بخیل آدمی ہمیشہ اس طرح کرتے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ تم تکلیف کے وقت بھی ایسا نہ کرو۔لیکن لوگ یہ چاہتے ہیں کہ انہیں قحط میں بھی اتنا آرام ملے جو تعیش اور آرام کے وقت میں بھی نہ ملتا ہو۔پس تحط میں بھی ایسا انسان اپنے لئے خود تکلیف پیدا کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے اس پر کوئی تکلیف نہیں آتی۔پھر سالنوں کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔روٹی تھوڑے سے سالن کے ساتھ بھی کھائی جاسکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک چمچہ چائے کا سالن لے لیتے تھے اور روٹی کھا لیتے تھے۔پس تم یہ چیزیں کم استعمال کرو تو تمہاری تکلیف کم ہو جائے گی۔لیکن اگر تم قحط میں بھی ان چیزوں کو کم نہیں کرتے تو تم یہ امید کیسے کرتے ہو کہ جو چیز نہیں وہ تمہیں مل جائے جو چیز موجود نہیں وہ نہیں مل سکتی۔ہم نے تحریک جدید کے اجراء کے ساتھ ساتھ کفایت کا سلسلہ اس لئے شروع کیا تھا کہ انسان پر قحط کا وقت بھی آتا ہے جب ایسا وقت آجائے تو وہ اشاعت اسلام میں ستی نہ کرے۔وہ برابر چندے دے تا کام رکے نہیں۔جب اسے سادگی کی عادت ہو گی تو لازماً خرچ بھی کم ہوگا اور جب خرچ کم ہوگا تو وہ قحط میں بھی چندے ادا کر سکے گا۔لیکن جو شخص رفا ہیت اور کھانے پینے میں تکلفات کا عادی ہے وہ شخص چندوں میں بھی سست ہو جائے گا بے شک مومن تو ہر حالت میں مالی قربانی کرے گا لیکن جو کمزور ایمان والا ہے وہ سہولت کے دنوں میں تو چندہ دے گا لیکن جب قحط کی حالت ہو گی تو وہ چندوں میں سستی کرے گا اور اس طرح اپنے ثواب کو کم کر لے گا۔الفضل 4 / دسمبر 1952 ء جلد 40/6 شماره 281 صفحہ 4) سیر کرنے کی عادت اگر کسی کام کو جی نہ چاہے تو بیسیوں حجتیں نکال لی جاتی ہیں۔مگر ایسا بھی ہوتا ہے کہ عذر موجود ہو مگر دیکھنے والے کو نظر نہ آئے دیکھا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عصر کے وقت