تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 862

تذکار مہدی — Page 494

تذکار مهدی ) 494 بیماری کی حالت میں اہل خانہ کے ساتھ نماز با جماعت روایات سید نا محمود حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب بوجہ بیماری مسجد میں تشریف نہ لے جاسکتے تھے تو اکثر مغرب اور عشاء کی نماز گھر میں باجماعت ادا فرماتے تھے اور عشاء کی نماز میں قریباً بلا ناغہ سورۃ یوسف کی یہ آیات تلاوت فرماتے تھے۔مجھے خوب یاد ہے کہ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُم سے لے کر اَرحَمُ الرّحِمِينَ (یوسف : 92-84) تک کی آیات آپ اس قدر دردناک لہجہ میں تلاوت فرماتے کہ دل بے تاب ہو جاتا تھا۔وہ آواز آج تک میرے کانوں میں گونجتی ہے اور شاید میں اب تک اس لہجہ کو صحیح طور پر نقل کر سکتا ہوں۔اس کا موجب بھی وہی پر پر تھا کہ آپ کے اور آپ کی قوم کے درمیان بھی یوسف اور اس کے بھائیوں والا معاملہ گزر رہا تھا اگلی آیت کے متعلق مجھے شبہ ہے کہ آیا یہ بھی پڑھتے تھے یا نہیں اور یہ بھی شبہ ہے کہ سب آیات ایک ہی رکعت میں پڑھتے تھے یا دونوں رکعتوں میں تقسیم کر کے پڑھتے تھے۔مسجد اقصی کی ترقی کی پیشگوئی ( تفسیر کبیر جلد سوم صفحه 356) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ خدا کے گھر ہمیشہ بڑھتے رہتے ہیں۔جب قادیان میں مسجد اقصیٰ کے پاس ایک اونچا مکان ہندوؤں کا بنے لگا تو بعض دوستوں کو بہت بُرا محسوس ہوا اور انہوں نے کہا ایسا مکان مسجد کے ساتھ نہیں بننا چاہئے جو اس کی ترقی میں روک ہو۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا مسجد خدا کے فضل سے ترقی کرے گی اور بڑھ جائے گی اس لئے یہ مکان بھی مسجد کے ساتھ شامل ہو جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ الفاظ سننے والے موجود ہیں۔اس مکان کا ایک حصہ خرید لیا گیا اور اب باقی حصہ بھی اسی ماہ میں خرید لیا گیا ہے۔اب یہ مکان یا تو مسجد کے ساتھ شامل کر لیا جائے گا یا سلسلہ کے اور کاموں کے لئے استعمال ہوگا۔(خطبات محمود جلد نمبر 13 صفحہ 147) مسجد مبارک کی اہمیت باجماعت نماز قریب ترین مسجد میں پڑھنی چاہئے۔مجھے معلوم ہوا ہے کئی لوگ مسجد مبارک