تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 862

تذکار مہدی — Page 195

تذکار مهدی ) 195 روایات سیّد نا محمود ہمیں سوچنا چاہیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن کا باطن خدا تعالیٰ کی محبت سے معمور تھا کیا انہوں نے نمازوں میں کمی کر دی تھی؟ آپ کی نمازوں کے متعلق تو آتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب دیکھا کہ نماز پڑھتے پڑھتے اُن کے پاؤں سوج جاتے ہیں تو آپ نے عرض کی يَا رَسُولَ اللہ ! آپ اتنی لمبی نمازیں کیوں پڑھتے ہیں؟ کیا خدا تعالیٰ نے آپ سے وعدہ نہیں کیا کہ اس نے آپ کے سب گناہ معاف کر دیئے ہیں؟ آپ نے فرمایا افلا أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا۔عائشہ ! اگر خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ احسان کیا ہے تو کیا میرا فرض نہیں کہ میں اس کا اور زیادہ شکر یہ ادا کروں ؟ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم با وجود اپنے عظیم الشان مرتبہ کے پھر بھی نماز پڑھتے ہیں، فرض پڑھتے ہیں، سنتیں پڑھتے ہیں اور ساتھ ہی نوافل اور ذکر الہی سب جاری رکھتے ہیں تو ہمارا یہ خیال کر لینا کہ ہم ان کے بغیر خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر لیں گے کس طرح صحیح ہو سکتا ہے۔جو چیزیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے لیے ضروری ہیں وہ چیزیں اُن سے کہیں زیادہ ہمارے لیے ضروری ہیں۔رسول کریم ﷺ کا دل روحانیت سے معمور تھا۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو بلند مرتبہ حاصل تھا۔اگر آپ کو باوجودان باتوں کے ظاہری عبادتوں کی ضرورت تھی تو ہمارے لیے تو ان کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہم صرف چھلکے کو ہی کافی نہ سمجھ لیں کیونکہ کسی کام کو صرف ظاہری طور پر کر لینا اور باطن کا خیال نہ رکھنا بے فائدہ ہوتا ہے۔مثلاً نماز ہے۔نماز صرف ظاہری طور پر پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ دل بھی اس میں شامل ہو۔صرف سراٹھانا اور گرا لینا کوئی فائدہ نہیں الفضل 20 جولائی 1949ء جلد 3 نمبر 166 صفحہ 4) دے سکتا۔سورۃ فاتحہ بہترین دعاؤں میں سے ہے سورۃ فاتحہ اسلام کی بہترین دعاؤں میں سے ایک دعا ہے جس کی قرآن کریم میں خاص طور پر تعریف آئی ہے۔چنانچہ اس کا ایک نام سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي ( الحجر : 88) بھی رکھا گیا ہے کیونکہ اس کی سات آیتیں ہیں۔جو بار بار دوہرائی جاتی ہیں۔مثانی کے معنی اعلیٰ کے بھی ہوتے ہیں اور مثانی کے معنی وادی کے موڑ کے بھی ہوتے ہیں۔گویا یہ سورۃ انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف موڑ کر لے جانے والی ہے اور پھر بار بار دوہرائی بھی جاتی ہے۔چنانچہ تہجد کو ملا کر روزانہ چھ نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جاتی ہے۔اگر نوافل کو شامل نہ کیا جائے تو صرف